ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’موت کے سائے گہرے ہو گئے ‘‘ روزانہ 700لوگوں کی موت ہونے لگی ۔۔ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 2  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فیصل آباد(آن لائن)فیصل آباد سمیت ملک بھر میں 80لاکھ افراد نشے کے عادی ہیں اور منشیات کے استعمال سے روزانہ 700افراد موت کا شکار ہورہے ہیں۔ جبکہ نوجوانوں میں شیشہ کا بڑھتا ہوا استعمال بھی منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، منشیات فروخت کرنے والوںکو معاشرتی دہشت گردقرار دیا جائے آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کے سینئر ٹیوٹر آفس کے زیراہتمام وفاقی وزارت منصوبہ بندی

 

و اصلاحات کے پلیٹ فارم سے ینگ ڈویلپمنٹ کورکی شراکت سے منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا تھاکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں میں مشغول رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر ان کی تعمیری مصروفیات بڑھا کر منشیات سے پاک معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر منشیات کے استعمال کے ساتھ ساتھ ایسے عوامل کی بھی حوصلہ شکنی کرناہوگی جن کی وجہ سے انسانی نفسیات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر منشیات میں پناہ ڈھونڈتی ہے ۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ لڑکپن میں بہت سے نوجوان تفریح کے طو رپر منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں تاہم وقت کے ساتھ وہ عام صحت مند انسانوں سے بہت دور چلے جاتے ہیں سیمینار سے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں ،سینئر ٹیوٹر ڈاکٹر اطہر جاوید خاں‘ ڈاکٹر محبوب احمد‘ڈاکٹر عاصم عقیل اور ماہر غذائیات بینش اسد نے بھی خطاب کیا۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں نے کہا کہ یونیورسٹی کیمپس میں سگریٹ کی فروخت نہ صرف مکمل طور ممنوع قرار دی گئی ہے بلکہ سگریٹ بیچنے والے دوکاندار کا ٹھیکہ بھی فوری طو رپر منسوخ کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ ناظم اُمور طلبہ کے اقدامات کے ساتھ ساتھ کیمپس نیوز کے ذریعے بھی منشیات کے خلاف شعور اُجاگر کیا جا رہا ہے جس کے

 

مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ اس موقع پرمعروف معالج ڈاکٹر آصف باجوہ نے کہا کہ منشیات کے عادی افرادکی تعداد میں وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ لڑکپن کے دوستوں کا اصرار اور تفریحی رغبت ہے ۔ انہوں نے منشیات فروخت کرنے والوںکو معاشرتی دہشت گردقرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کرنا چاہئے۔#/s#

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…