منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

سمندری گھونگھے سے ایسی خطرناک بیماری کا علاج کہ مہنگے ڈاکٹروں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی

datetime 26  فروری‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی) ماہرین نے سمندری گھونگھے کے زہر میں ایک ایسا مادہ دریافت کیا ہے جو نہ صرف درد ختم کرتا ہے بلکہ اس کا اثر لمبے عرصے تک برقرار بھی رہتا ہے۔یہ مادہ ایک پیپٹائیڈ ہے جو کونس ریگیئس نامی چھوٹے سمندری گھونگھے کے زہر میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اپنی درد کش خصوصیات کے باوجود یہ مادہ درد ختم کرنے والی مروجہ دواں سے یکسر مختلف ہےجن میں عام طور پر اوپیوئیڈنامی مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں۔

اوپیوئیڈ مرکبات ہمارے اعصاب کو سن کرتے ہوئے درد کی شدت میں کمی لاتے ہیں لیکن ان کے اثرات صرف ایک دن تک ہی رہتے ہیں جب کہ اگر ان کی زیادہ مقدار استعمال کرلی جائے تو یہ موت کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ صرف امریکا میں اوپیوئیڈز کی زائد مقدار لینے کے باعث روزانہ 90 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے ماہرین چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی بہتر متبادل تلاش کیا جائے جو ان جان لیوا اثرات سے پاک بھی ہو۔ان ہی کوششوں کے دوران یونیورسٹی آف یوٹاہ میں ماہرین کی ایک ٹیم نے جب چھوٹی کون جیسی شکل والے ننھے منے گھونگھے کے زہر کا تجزیہ کیا تو اس میں RgIA پیپٹائیڈ دریافت ہوا جو درد ختم کرنے والی خصوصیات کا حامل تھا۔ چوہوں پر آزمائشوں کے دوران اس پیپٹائیڈ نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ اس کے مفید اثرات بھی تین دن تک برقرار رہے۔ اوپیوئیڈز کے برعکس اس کے استعمال میں بظاہر کوئی خطرہ بھی سامنے نہیں آیا۔ابتدائی کامیابی کے بعد اب اس پیپٹائیڈ پر مزید تحقیق کی جارہی ہے جس سے معلوم ہوسکے گا کہ یہ انسانوں میں کس حد تک مفید و مثر ہے اور یہ کہ انسانوں پر بھی اس کے دیرپا اثرات ویسے ہی مرتب ہوتے ہیں جیسے چوہوں میں دیکھے گئے ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی تازہ اشاعت میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…