جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

سمندری گھونگھے سے ایسی خطرناک بیماری کا علاج کہ مہنگے ڈاکٹروں کی ضرورت ہی نہیں رہے گی

datetime 26  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(این این آئی) ماہرین نے سمندری گھونگھے کے زہر میں ایک ایسا مادہ دریافت کیا ہے جو نہ صرف درد ختم کرتا ہے بلکہ اس کا اثر لمبے عرصے تک برقرار بھی رہتا ہے۔یہ مادہ ایک پیپٹائیڈ ہے جو کونس ریگیئس نامی چھوٹے سمندری گھونگھے کے زہر میں قدرتی طور پر موجود ہوتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اپنی درد کش خصوصیات کے باوجود یہ مادہ درد ختم کرنے والی مروجہ دواں سے یکسر مختلف ہےجن میں عام طور پر اوپیوئیڈنامی مرکبات استعمال کیے جاتے ہیں۔

اوپیوئیڈ مرکبات ہمارے اعصاب کو سن کرتے ہوئے درد کی شدت میں کمی لاتے ہیں لیکن ان کے اثرات صرف ایک دن تک ہی رہتے ہیں جب کہ اگر ان کی زیادہ مقدار استعمال کرلی جائے تو یہ موت کی وجہ بھی بن سکتے ہیں۔ صرف امریکا میں اوپیوئیڈز کی زائد مقدار لینے کے باعث روزانہ 90 افراد ہلاک ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سے ماہرین چاہتے ہیں کہ ان کا کوئی بہتر متبادل تلاش کیا جائے جو ان جان لیوا اثرات سے پاک بھی ہو۔ان ہی کوششوں کے دوران یونیورسٹی آف یوٹاہ میں ماہرین کی ایک ٹیم نے جب چھوٹی کون جیسی شکل والے ننھے منے گھونگھے کے زہر کا تجزیہ کیا تو اس میں RgIA پیپٹائیڈ دریافت ہوا جو درد ختم کرنے والی خصوصیات کا حامل تھا۔ چوہوں پر آزمائشوں کے دوران اس پیپٹائیڈ نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب کہ اس کے مفید اثرات بھی تین دن تک برقرار رہے۔ اوپیوئیڈز کے برعکس اس کے استعمال میں بظاہر کوئی خطرہ بھی سامنے نہیں آیا۔ابتدائی کامیابی کے بعد اب اس پیپٹائیڈ پر مزید تحقیق کی جارہی ہے جس سے معلوم ہوسکے گا کہ یہ انسانوں میں کس حد تک مفید و مثر ہے اور یہ کہ انسانوں پر بھی اس کے دیرپا اثرات ویسے ہی مرتب ہوتے ہیں جیسے چوہوں میں دیکھے گئے ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی تازہ اشاعت میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…