پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

اگر خون کی بیماری کا شکار ہیں تو سیب کا سرکہ بہترین ہے ۔۔ طریقہ استعمال جان لیں 

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سیب کا سرکہ جہاں ذیابیطس کے علاج میں اکسیر ہے وہیں دانت صاف کرنے کے لیے بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں وزن کم کرنے کی زبردست صلاحیت ہے۔اسے انگریزی میں ’’ایپل سائیڈر ونیگر‘‘ یا اے سی وی کہا جاتا ہے۔ امریکا میں ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی خاتون

پروفیسر گزشتہ 10 برس سے اس سرکے پر تحقیق کر رہی ہیں۔2009 میں جاپانی ماہرین نے بھی انکشاف کیا تھا کہ اگر دن میں 2 مرتبہ ہلکی شدت والے سیب کے سرکے کے 2،2 چمچے پی لیے جائیں تو اس سے 12 ہفتوں میں 2 سے 3 کلوگرام وزن کم کیا جاسکتا ہے۔ خاتون پروفیسر کے مطابق نئے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے استحالہ (میٹابولزم) کو تبدیل کرکے وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے تاہم اس کےلیے مزید تجربات کی ضرورت ہے۔پروفیسر کے مطابق سیب کا سرکہ خون میں شکر کی مقدار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جو لوگ ذیابیطس کے دہانے پر ہیں اگر وہ پاستہ اور پیزا کھائیں تو ان کے خون میں شکر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جب کہ سیب کا سرکہ اس کیفیت کو قابو کرسکتا ہے جس کی وجہ ایسیٹک ایسڈ ہے۔ان کا مشورہ ہے کہ سرکہ پینے سے قبل اس میں تھوڑا پانی ملاکر اس کی شدت کو کم کیا جائے کیونکہ خالص سرکہ معدے اور حلق کو متاثر کرسکتا ہے۔خاتون پروفیسر کا کہنا ہےکہ 2 چمچے سیب کا سرکہ8 اونس پانی میں ملاکر پیا جائے اور اگر سرکے کے ساتھ سبز سلاد بھی کھاسکیں تو اس کے بہترین اثرات مرتب ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…