بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

خراٹوں سے متاثر لوگ اب پریشان ہونا چھوڑیں، پیش خدمت ہے آزمودہ نسخہ

datetime 24  جولائی  2016 |

سوتے ہوئے خراٹے مارنا ایک عمومی مسئلہ ہے، جو آپ کو نیند کی کمی کا شکار کر دیتا ہے اور نیند کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
خراٹے مارنے والے اپنیا نامی بیماری (سوتے ہوئے سانس رکنے کا عمل) کا شکار ہو جاتے ہیں، جس کے باعث وہ رات کو متعدد بار جاگ جاتے ہیں۔ ماہرین کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ سوتے ہوئے خراٹے مارنے والے افراد ہارٹ اٹیک کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ یہاں ہم آپ کو خراٹوں کے قدرتی علاج کے لئے چند گھریلو ٹوٹکوں کے بارے میں آگاہ کریں گے۔
الکوحل اور نیند والی گولیوں سے بچاؤ: الکوحل یا نیند لینے والی گولیوں سے انسان گہری نیند میں چلا جاتا ہے اور گہری نیند خراٹوں کا بہت بڑا سبب ہے۔
وزن گھٹانا: زیادہ وزن خراٹوں کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے، وزن گھٹانے کیلئے خوراک کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ ورزش پر دیں۔
سانس میں آسانی پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال: بازار میں ایسے بے شمار سپرے ملتے ہیں، جو سانس لینے کی صلاحیت کو بڑھا دیتے ہیں۔ اگر آپ ناک یا گلے کے کسی مسئلہ کا شکار ہیں توضرورایسی ادویات کا استعمال کریں جس میں مینتھول ( ست پودینہ) پایا جاتا ہو، کیونکہ ست پودینہ سانس کے راستوں کو کھول دیتا ہے۔
سونے کی حالت: ہر شخص اپنے طریقے سے سوتا ہے، کچھ لوگ ایک طرف تو کچھ الٹے سوتے ہیں۔ لیکن اہم چیز یہ ہے کہ جب بھی آپ خراٹے لینے لگیں تو اپنے سونے کی پوزیشن کو بدل لیں، اس سے آپ فوراً خراٹے چھوڑ دیں گے۔
ڈیری مصنوعات: رات کو ڈیری مصنوعات کا استعمال کرنے والے لوگ اکثر گلے میں بلغم پیدا ہونے جیسے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پھر یہی چیز خراٹوں کا باعث بن جاتی ہے، لہذا شام کے وقت ایسی خوراک سے پرہیز کریں۔
تمباکو نوشی کا خاتمہ: تمباکو نوشی گلے کے ٹشوز کو بھڑکا دیتی ہیں، جو بعدازاں خراٹوں کا باعث بنتے ہیں۔
نتھنوں کی صفائی: رات کو سونے سے پہلے اچھی طرح ناک صاف کریں۔<

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…