اسلام آباد (نیوزڈیسک ) دیکھنے والوں کو سٹیون ایک عام سا7سالہ بچہ محسوس ہوتا تھا جو باقاعدگی سے سکول جاتا، دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک کمرے میں سوتا تھا تاہم اس کی بہت سی عادات عام بچوں جیسی نہ تھیں جیسا کہ اگر اسے کوئی بات ناگوار ہوتی تو وہ گھنٹوں جنون میں گزارتا۔ اپنے بھائی پر غصہ آتا تو اسے بری طرح پیٹ ڈالتا۔ کسی دوسرے بچے کو زیادہ توجہ ملتی تو کوئی ایسی حرکت کرتا کہ دوسرے سے توجہ ہٹ جائے اور وہ خود مرکز نگاہ بن جائے۔ دوسروں کو نقصان پہچانے والی اپنی ان حرکتوں پر سٹیون کو کوئی دکھ یا شرمندگی بھی نہ ہوتی تھی۔ لوگوں کی شکایت کا سٹیون کے والدین کے پاس بس یہی جواب ہوتا تھا کہ سٹیون کو زیادہ توجہ ملی ہے، اس لئے اب وہ عدم توجہی برداشت نہیں کرسکتا۔ آخر کار اس کی یہ حرکتیں اس قدر شدید ہوگئیں کہ اس کی استانی نے بھی اسے نفسیاتی معالج کے پاس بھیجنے کا مشورہ دے ڈالا۔ سٹیون کے والدین کیلئے یہ مشورہ کافی اچنبھے کا باعث تھا کیونکہ عام والدین کی طرح ان کی رائے بھی یہی تھی کہ بچے نفسیاتی جنونی نہیں ہوسکتے حالانکہ یہ سوچ غلط ہے۔ ماہرین کی رائے میں بچے بھی نفسیاتی جنونی ہوسکتے ہیں اور بلوغت کے بعد نفسیاتی جنونی کہلانے والے افراد کی کونسلنگ اگر بچپن میں ہی کی جائے تو انہیں ان کی موجودہ حالت کا شکار ہونے سے بچانا ممکن تھا۔ یہاں نفسیاتی جنونی افراد سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا قتل بھی کرڈالتے ہیں اور انہیں کوئی دکھ محسوس نہیں ہوتا۔ عام طور پر سیریئل کلرز اسی نفسیاتی جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ماہرین نفسیات کی رائے میں جنون کی کیفیت کے کچھ جراثیم جینز میں ہوتے ہیں تاہم بچپن میں پیش آنے والا کوئی حادثہ یا پھر والدین ، بہن بھائیوں اور دوستوں سے فاصلے پر ہونا اس کیفیت کو بلوغت کے بعد نہایت واضح کردیتا ہے۔ ایسے بچوں کو اگر والدین کی قربت میئسر آئے تو ان کی کیفیت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ہالی ووڈ فلموں میں جس قسم کے نفسیاتی مریض دکھائے جاتے ہیں، علم نفسیات ویسی کوئی قسم بھی شناخت کرنے سے قاصر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی جنونی افراد میں پائی جانے والی بہت سی علامات عام انسانوں میں بھی ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی بھی شخص میں نفسیاتی جنونی شخص والی تمام علامات ہوں تاہم وہ جنونی نہ ہو۔یونیورسٹی آف مانٹریال کی ایک تحقیق میں نفسیاتی جنونی افراد کے دماغی سکینز سے ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ ان افراد کے دماغ کے دو انتہائی گہرے حصوں کے بیچ انتہائی پیچیدہ تعلق ہوتا ہے جبکہ عام افراد میں یہ تعلق اس نوعیت کا نہیں ہوتا ہے۔ یہ دونوں حصے وہ ہوتے ہیں جو کہ سزا و جزا کے تصور کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی امراض اور نفسیاتی معالج کے پاس جانے والوں کو اگر معاشرہ آسانی سے قبول کرنا شروع کردے تو ایسے میں کسی بھی شخص کیلئے خود میں موجود ایسی علامات کی صورت میں معالج سے رجوع کرنا آسان ہوگا یا اس کے اطراف میں موجود افراد اس کی مدد کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
اپنے بچوں کو نفسیاتی ہونے سے کیسے بچائیں؟ جانیئے مفید معلومات
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
’’شیطان مر گیا‘‘: نانا پاٹیکر کے بیٹے کا تنوشری دتہ کے متنازع بیان پر ردعمل آگیا
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ
-
باپ نے 4بیٹیوں کو زہریلا مشروب پلا کر خود بھی پی لیا
-
توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر 2026 کا ریکارڈ جاری، اہم نام سامنے آگئے
-
گورنر راج میں حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں، محسن نقوی



















































