پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

اپنے بچوں کو نفسیاتی ہونے سے کیسے بچائیں؟ جانیئے مفید معلومات

datetime 11  فروری‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) دیکھنے والوں کو سٹیون ایک عام سا7سالہ بچہ محسوس ہوتا تھا جو باقاعدگی سے سکول جاتا، دوستوں کے ساتھ کھیلتا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایک کمرے میں سوتا تھا تاہم اس کی بہت سی عادات عام بچوں جیسی نہ تھیں جیسا کہ اگر اسے کوئی بات ناگوار ہوتی تو وہ گھنٹوں جنون میں گزارتا۔ اپنے بھائی پر غصہ آتا تو اسے بری طرح پیٹ ڈالتا۔ کسی دوسرے بچے کو زیادہ توجہ ملتی تو کوئی ایسی حرکت کرتا کہ دوسرے سے توجہ ہٹ جائے اور وہ خود مرکز نگاہ بن جائے۔ دوسروں کو نقصان پہچانے والی اپنی ان حرکتوں پر سٹیون کو کوئی دکھ یا شرمندگی بھی نہ ہوتی تھی۔ لوگوں کی شکایت کا سٹیون کے والدین کے پاس بس یہی جواب ہوتا تھا کہ سٹیون کو زیادہ توجہ ملی ہے، اس لئے اب وہ عدم توجہی برداشت نہیں کرسکتا۔ آخر کار اس کی یہ حرکتیں اس قدر شدید ہوگئیں کہ اس کی استانی نے بھی اسے نفسیاتی معالج کے پاس بھیجنے کا مشورہ دے ڈالا۔ سٹیون کے والدین کیلئے یہ مشورہ کافی اچنبھے کا باعث تھا کیونکہ عام والدین کی طرح ان کی رائے بھی یہی تھی کہ بچے نفسیاتی جنونی نہیں ہوسکتے حالانکہ یہ سوچ غلط ہے۔ ماہرین کی رائے میں بچے بھی نفسیاتی جنونی ہوسکتے ہیں اور بلوغت کے بعد نفسیاتی جنونی کہلانے والے افراد کی کونسلنگ اگر بچپن میں ہی کی جائے تو انہیں ان کی موجودہ حالت کا شکار ہونے سے بچانا ممکن تھا۔ یہاں نفسیاتی جنونی افراد سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا قتل بھی کرڈالتے ہیں اور انہیں کوئی دکھ محسوس نہیں ہوتا۔ عام طور پر سیریئل کلرز اسی نفسیاتی جنون کا شکار ہوتے ہیں۔ماہرین نفسیات کی رائے میں جنون کی کیفیت کے کچھ جراثیم جینز میں ہوتے ہیں تاہم بچپن میں پیش آنے والا کوئی حادثہ یا پھر والدین ، بہن بھائیوں اور دوستوں سے فاصلے پر ہونا اس کیفیت کو بلوغت کے بعد نہایت واضح کردیتا ہے۔ ایسے بچوں کو اگر والدین کی قربت میئسر آئے تو ان کی کیفیت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ہالی ووڈ فلموں میں جس قسم کے نفسیاتی مریض دکھائے جاتے ہیں، علم نفسیات ویسی کوئی قسم بھی شناخت کرنے سے قاصر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نفسیاتی جنونی افراد میں پائی جانے والی بہت سی علامات عام انسانوں میں بھی ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ کسی بھی شخص میں نفسیاتی جنونی شخص والی تمام علامات ہوں تاہم وہ جنونی نہ ہو۔یونیورسٹی آف مانٹریال کی ایک تحقیق میں نفسیاتی جنونی افراد کے دماغی سکینز سے ماہرین نے معلوم کیا ہے کہ ان افراد کے دماغ کے دو انتہائی گہرے حصوں کے بیچ انتہائی پیچیدہ تعلق ہوتا ہے جبکہ عام افراد میں یہ تعلق اس نوعیت کا نہیں ہوتا ہے۔ یہ دونوں حصے وہ ہوتے ہیں جو کہ سزا و جزا کے تصور کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نفسیاتی امراض اور نفسیاتی معالج کے پاس جانے والوں کو اگر معاشرہ آسانی سے قبول کرنا شروع کردے تو ایسے میں کسی بھی شخص کیلئے خود میں موجود ایسی علامات کی صورت میں معالج سے رجوع کرنا آسان ہوگا یا اس کے اطراف میں موجود افراد اس کی مدد کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…