پیر‬‮ ، 19 اکتوبر‬‮ 2026 

خون میں شکر کا معمولی اضافہ بھی گردوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیو ز ڈیسک) وہ افراد جنہیں ذیابیطس کا مرض لاحق نہیں اور ان کے خون میں شکر کی مقدار معمول سے تھوڑی زیادہ ہو تو وہ بھی گردوں کے امراض کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ناروے کے ماہرین نے 50 سے 62 برس کے سیکڑوں مریضوں کا جائزہ لیا جن میں شکر کی زیادتی اور گردے کے امراض کا جائزہ لیا گیا جس میں مریضوں کا نہار منہ خون کا ٹیسٹ لیا گیا اور ان میں ہیموگلوبن اے ون سی بھی نوٹ کیا گیا جو خون کے سرخ خلیات میں آکسیجن کی مقدار کو ظاہر کرتا ہے۔سروے کے ابتدا میں تحقیق میں شامل نصف افراد کے خون میں شکر کی مقدار معمول سے تھوڑی بلند تھی اس کے بعد 5 سال کے دوران ان مریضوں کا جائزہ لیا جاتا رہا تو معلوم ہوا کہ وہ ذیابیطس کے مکمل مریض تو نہ بنے لیکن ان کے گردے درست کام نہیں کررہے تھے یا انہیں خون فلٹر کرنے میں دقت پیش آرہی تھی اور گردے متاثر ہورہے تھے۔ اسی طرح ان مریضوں کے پیشاب میں البومین کی مقدارزیادہ تھی جو ظاہر کرتی ہے کہ گردے متاثر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ماہرین کے مطابق تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ خون میں شکر کی معمولی سی زیادتی بھی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ جن افراد کے خون میں گلوکوز کی مقدار معمول سے تھوڑی زیادہ ہو اور وہ ذیابیطس کے شکار بھی نہ ہوں تو وہ گردے کے دو امراض میں گرفتار ہوسکتے ہیں جن میں اول خون فلٹر کرنے کا عمل غیر فعال ہوسکتا ہے اور پیشاب میں ایلبومن پروٹین کی زیادتی ہوسکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سروے سے ثابت ہوتا ہے کہ خون میں شکر کی معمولی زیادتی بھی گردوں کے لیے اتنے ہی مسائل پیدا کرسکتی ہے جو ذیابیطس کا بڑھتا ہوا مرض پیدا کرتا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس کیفیت میں کن نئی احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہوگی۔ ماہرین صحت کا مشورہ ہےکہ ورزش ، صاف پانی اور مناسب خوراک سے خون میں شکر کو قابو میں رکھ کر ذیابیطس جیسے مرض سے بچاجاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…