اسلام آبا(نیوزڈیسک)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کو بتایا گیا کہ ملک میں 82فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ، مارکیٹ میں بعض کمپنیوں کی طرف سے فراہم کیا جانے والا منرل واٹر بھی غیر معیاری ہوتا ہے ، حکومت ملک بھر میں فلٹریشن پلانٹ لگانا چاہتی ہے جس پر جلد ہی کام شروع ہو جائے گا، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس پارلیمنٹ ہائوس کے کمیٹی روم میں چیئرمین عثمان سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان آبی وسائل کی تحقیقاتی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر ) کے کام کے طریقہ کار، کارکردگی اور دیگر اہم امور کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔کمیٹی کے ارکان نے سفارش کی کہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے،مضر صحت پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کمیٹی کو بتایا کہ پی سی آر ڈبلیو آر کا بجٹ بہت کم ہے جس کی وجہ سے تحقیق کے شعبے پر اثرات پڑرہے ہیں لٰہذا اس کا بجٹ بڑھایا جانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پانی اللہ کی نعمت ہے مگر بدقسمتی سے لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا اور ایک اندازے کے مطابق ملک میں 82 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں۔پی سی آر ڈبلیو آر کے حکام نے بتایا کہ مارکیٹ میں بعض برانڈ کی پانی کی بوتلیں بھی ناقص ہیں ۔حکومت پورے ملک میں فلٹر پلانٹس لگانا چاہتی ہے اس پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔اراکین نے ملک میں صاف پانی میسر نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ ایک تشویشناک معاملہ ہے کہ پینے کا صاف پانی میسر نہیں،ارکان نےزور دیا کہ اس معاملے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کمیٹی نے کہا کہ ادارے کے فنڈز بڑھائے جائیں ۔چیئرمین عثمان سیف اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فروری میں متوقع سی سی آئی میں اس مسئلے کو اٹھایا جائے، ایسی صورتحال میں تو صاف پانی کیلئے ایمرجنسی لگانی چاہیے ۔وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی فضل عباس میکن نے تجویز دی کہ تمام صوبوں کو اپنا واٹر آڈٹ کرانا چاہئے ، پی سی آر ڈبلیو آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پی سی آر ڈبلیو آر ایک ریسرچ کا ادارہ ہے جس کا قیام 1964 میں عمل میں لایا گیا تھا جو زمین اور پانی کی ٹیسٹنگ کر تا ہے، کمیٹی نے متفقہ تجویز دی کہ جو ادارے پیکنگ میں پانی فروخت کرتے ہیں اگر ان کا معیار گرا ہوا ہو اور وہ مضر صحت پانی فروخت کریں تو ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے ۔کمیٹی نے وزارت کو مسائل کے حل کیلئے بھرپور تعاون کا یقین دلاتے ہوئےکہا کہ پینے کے صاف پانی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے اس پر سنجیدگی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، اجلاس میں اعظم سواتی ، لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم ، مومن آفریدی ، سلیم مانڈوی والا اور میاں عتیق شیخ کے علاوہ وزارت اور پی سی آر ڈبلیو آر کے حکام نے شرکت کی۔
ملک میں 82 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں، منرل واٹر بھی ناقص ہے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے
-
توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر 2026 کا ریکارڈ جاری، اہم نام سامنے آگئے
-
گورنر راج میں حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں، محسن نقوی
-
جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
گلشن حدید میں ایک گھر سے 5 لاشیں ملنے کا کیس، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
-
سلمان خان کے بیڈروم میں نادیدہ وجود، پراسرار واقعات کا انکشاف



















































