اسلام آباد (نیوزڈیسک) موٹاپا عالمی سطح پر ایک بڑی بیماری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اورسائنس دان اس پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات اور تحقیق کررہے ہیں ایسی ہی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جو خواتین 30 اور 40 سال کے درمیان پہلی بارماں بنتی ہیں ان کے بچے زیادہ اسمارٹ ہوتے ہیں جب کہ ایسی خواتین جو 40 سال کی عمر کے بعد ماں بنتی ہیں ان کے بچے فربہ اور موٹے ہوتے ہیں۔
برطانیہ اسکول ا?ف اکنامکس میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے جو خواتین 23 سے 29 سال کے درمیان پہلی بار ماں بنتی ہیں ان کے بچے کم ذہین اور ہوشیار ہوتے ہیں جب کہ جو خواتین 30 سے 39 سال کے درمیان پہلی بار ماں بنتی ہیں ان کے بچے زیادہ ذہین اور اسمارٹ ہوتے ہیں جب کہ 40 سال کے بعد پہلی بار ماں بننے والی خواتین کے بچے فربہ اور موٹاپے کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ اپنی تحقیق کے دوران 18 ہزار بچوں کی پیدائش سے لے کر نوجوانی تک کی عمر کا مطالعہ کیا اور اس سے جو نتیجہ سامنے آیا اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت کا تعلق ماو¿ں کی عمر کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی ماحول پر بھی ہوتا ہے تاہم ایک بات توواضح ہے کہ دیر سے ماں بننے والی خواتین کے بچے اوور ویٹ ہوتے ہیں اور ان کی یہ کیفیت بڑی عمر تک رہتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ جو خواتین 30 سال کی عمر میں پہلی بار ماں بنتی ہیں اور وہ تعلیم یافتہ، بہتری مالی پوزیشن اور گھریلو تعلقات میں استحکام رکھتی ہیں تو ان کے بچے زیادہ ہوشیار، ذہین اور اسمارٹ ہوتے ہیں اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ان ماو¿ں کو بچوں کی کیئر کرنے کے لیے موزوں ماحول میسر ہوتا ہے اور وہ زیادہ ایکٹو اور اپنے حمل کے دوران بہترمنصوبہ بندی کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو خواتین زیادہ بڑی عمر یعنی 40 سال کے بعد پہلی بار ماں بنتی ہیں وہ بچے کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں اور بچوں کواپنا دودھ پلاتی اور ان کو اچھی طرح سمجھتی ہیں جس سے وہ زیادہ موٹے ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کا تحقیق کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ جب تحقیق کے دوران صرف معاشی اور معاشرتی پہلو کو سامنے رکھ کر بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا تو جو خواتین 20 سے 29 یا پھر 30 سے 39 سال کے درمیان مائیں بنتی ہیں تو ان کی صحت میں کوئی زیادہ فرق نہ تھا لیکن یہ فرق 40 سال کی عمر میں ماں بننے والی خواتین میں بڑا واضح تھا۔ ماہرین کے مطابق اس پوری تحقیق کو یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ جو خواتین 40 سال کی عمر میں پہلی بار مائیں بنتی ہیں ان میں کم توانائی ہوتی ہے اور وہ کم سرگرمیوں میں شریک ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ موٹے بچے کو جنم دیتی ہیں۔
30 اور 40 سال کے درمیان پہلی بارماں بنتی ہیں ان کے بچے زیادہ اسمارٹ ہوتے ہیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)
-
حنا جاوید قتل کیس: مقتولہ سے زیادتی بھی کی گئی، ملازم سے ڈی این اے میچ کرگیا
-
بھارت اور ویسٹ انڈیز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں چھکوں کی برسات، نیا عالمی ریکارڈ قائم
-
گرج چمک کے ساتھ بارش،محکمہ موسمیات نے اہم پیشگوئی کردی
-
رات کو نوڈلز کھائے، صبح پورا خاندان مردہ پایا گیا
-
شریاس ائیر نے اپنی ٹیم کی اننگ تین گیندیں قبل ختم کر کے سب کو حیران کر دیا
-
سعودی عرب میں نئے قوانین کا اعلان، خلاف ورزی پر بھاری جرمانوں کا فیصلہ
-
پاکستان میں سریے اور سیمنٹ کی قیمتیں، آج کے تازہ نرخ
-
زلزلے کے جھٹکے،لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے
-
توشہ خانہ کا جولائی تا ستمبر 2026 کا ریکارڈ جاری، اہم نام سامنے آگئے
-
گورنر راج میں حصہ اور گورنرشپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں، محسن نقوی
-
جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان
-
گلشن حدید میں ایک گھر سے 5 لاشیں ملنے کا کیس، میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی
-
سلمان خان کے بیڈروم میں نادیدہ وجود، پراسرار واقعات کا انکشاف



















































