منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

سِلور جبڑے والی فش کا گوشت جان لیوا ہو سکتا ہے،تحقیق

datetime 25  اگست‬‮  2015 |
OLYMPUS DIGITAL CAMERA

برلن (نیوز ڈیسک)سِلور جبڑے والی بلَو فش کا اصل مسکن منطقہ حارہ یا گرم مرطوب علاقے ہیں۔ اِس کا گوشت لذیذ نہیں بلکہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ جرمنی سمیت کئی ملکوں میں اِس کے شکار اور فروخت پر پابندی ہے۔
بلَو فش کے کئی نام ہیں اور اِن میں بالون فِش، ٹوڈ فِش، سویل فِش اور گلوب فِش خاص طور پر مشہور ہیں اور اِس کی ایک بڑی وجہ جب اِس کو شکار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ خطرے کا احساس کرتے ہوئے خود کو غبارے کی طرح پھلا لیتی ہے۔ یہ دس سینٹی میٹر سے ایک میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے۔
بظاہر دیکھنے میں یہ انتہائی خوبصورت ہوتی ہے لیکن یہ گھر کے اندر شوقیہ طور پر بنائے گئے ایکویریئم کے لیے تجویز نہیں کی جاتی۔ اِس کو چھونے کی صورت میں یہ کاٹ لیتی ہے اور یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔ اِس کا گوشت بھی زہریلا ہوتا ہے اور کھانے کے بعد قے آنا شروع ہو جاتی ہے اور بہتر علاج میسر نہ آنے کی صورت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔یہ مچھلی پہلے یورپی ساحلی پٹیوں پر قطعاً دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن نہر سویز سے تیرتی ہوئی اب بحیرہ روم میں پہنچ چکی ہے۔ اِس کو گاہے بگاہے اٹلی اور اسپین کے ساتھ سمندری علاقوں میں دیکھا گیا۔
جرمنی کی فرینکفرٹ یونیورسٹی اور میڈیکل ہسپتال کے شعبہ ٹیکسکالوجی کے ماہر ڈیٹرش میبس کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بلَو فِش کو بحیرہ روم اپنے وطن جیسا محسوس ہوا ہے۔ زہریلی مخلوقات سے متعلق ماہرین کا خیال ہے کہ بلَو فش کی نقرئی جبڑے والی قسم بحیرہ روم میں انتہائی مضر اجنبی مخلوق ہے۔
ماہرین کے مطابق بحیرہ احمر سے نہر سویز کو عبور کر کے بحیرہ روم پہنچنے والی یہ مچھلی مشرقی حصے میں خاصی افزائش پا چکی ہے۔ ماہرین نے اِس مچھلی کی آمد کو یلغار سے تعبیر کرتے ہوئے اِس کے مجموعی اثرات کو طاعونی قرار دیا ہے۔یونانی رہوڈز جزیرے پر قائم ہیلینک سینٹر برائے میرین ریسرچ کی ماہرِ حیاتیات ماریا کورسینا فوکا نے بلَو فِش کے بارے میں بتایا ہے کہ یہ مچھلی اب مغربی بحیرہ روم میں بھی اپنی نسل آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔یونانی جزیرے رہوڈز کے قریب بھی اِس مچھلی کو دیکھا گیا ہے، 2013 کے بعد یہ مچھلی اسپین و اٹلی کے علاوہ مالٹا اور الجیریا کے ساحلوں کے قریب بھی شکاریوں اور ماہرین کو دکھائی دینا شروع ہو گئی ہے۔ جرمن ماہر ڈیٹرش میبس کو یہ تشویش لاحق ہے کہ بہت سارے لوگ اور بحیرہ روم کی سیاحت کرنے والے سیاح اِس مچھلی کے بارے میں ضروری آگہی نہیں رکھتے۔
ڈیٹرش میبس کے مطابق ہر بلَو فِش زہر کی حامل ہوتی ہے۔ کئی ملکوں میں اِس مچھلی کے کھانے سے زہر خوری کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ ان میں خاص طور پر ترکی اور اسرائیل شامل ہیں۔ مچھلی کھانے سے بلَو فِش کا زہر انسانی بدن کے اعصابی نظام کو معطل کر دیتا ہے اور بتدریج سارا بدن مفلوج ہونا شروع ہو جاتا ہے۔متاثرہ شخص کو قے آنا شروع ہو جاتی ہے۔ مفلوج ہونے کا احساس انگلیوں سے شروع ہوتا ہے اور بڑھتے بڑھتے جب نظام تنفس اِس کی لپیٹ میں آتا ہے تو موت واقع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔دنیا بھر میں جاپان صرف ایک واحد ملک ہے، جہاں اِس مچھلی کے گوشت کو خاص انداز میں پکا کر کھایا جاتا ہے، پکانے کے دوران ماہر باورچی بلَوفِش کے زہریلی اثرات کو زائل کر دیتا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…