بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

سائنسدانوں کا100برس تک زندہ رہنے والے لوگوں کی طویل العمری کا راز جاننے کا دعویٰ

datetime 7  اگست‬‮  2015 |
TO GO WITH Pakistan-Britain-history-WWI-centenary,FOCUS BY KHURRAM SHAHZAD In this photograph taken on October 29, 2014, ninety-one year old Pakistani WWII veteran, Haji Malik Muhammad Khan gestures as he speaks to AFP during an interview in the village of Dulmial in Chakwal district some 150kms south of Islamabad. Down a broken road winding through a corner of Pakistan's Punjab province lies a silent graveyard, the resting place of hundreds of soldiers who fought for Britain in two world wars. AFP PHOTO/Aamir QURESHI

لندن(نیو ز ڈیسک)برطانوی سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں 100برس تک زندہ رہنے والے لوگوں کی اس طویل العمری کا راز جاننے کا دعویٰ کرلیاہے۔آن لائن رسالے ‘ای بائیو میڈیسن جرنل’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ اس تحقیق کا مقصد ان حیاتیاتی عوامل کی شناخت تھی جو انتہائی بڑھاپے میں کامیاب عمر کی پیش گوئی کرتے ہیں۔محققین یہ دیکھناچاہتے تھے کہ کیا ان عوامل کی بہتر کارکردگی کو پہلے سے ان کی اولادوں میں شناخت کیاجاسکتاہے۔تحقیق کاروں کے مطابق جسم میں انفیکشن یا سوزش کی کم شرح ہونا اچھی عمر پانے کی کلید ہے کیونکہ بڑی عمر میں زیادہ تر بیماریاں سوزش بڑھنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں۔تحقیق میں بتایاگیاہے کہ اس کے علاوہ لمبی عمر پانے کیلئے آپ کو عمر بڑھنے کے عمل ‘تلومر’کے لیے وقف انسانی خلیات کی اعلیٰ کارکردگی کی ضرورت ہوگی۔متعدد مطالعوں میں سائنسدانوں نے تلومر کی ساخت اور کارگزاری کو ہماری حیاتیاتی عمر اور صحت کے ساتھ منسلک کیاہے۔تلومر ہمارے ڈی این اے کا خصوصی حصہ ہیں ،یہ خلیات کے اندر کروموسومز کے آخری سروں پر واقع حفاظتی حصہ ہے۔تلومر کی لمبائی کے ساتھ زیادہ تر لوگوں میں گھٹتی ہے۔یہ ہمارے جسم میں عمر بڑھنے کے عمل کو تیزکرتاہے۔بڑھاپے یا بیماری کے بارے میں تلومر کی پیمائش سے صحت کی صورتحال کی پیش بینی کی جاسکتی ہے جبکہ سائنس دانوں کے مطابق چھوٹے تلومر یا تبدیل شدہ تلومر کا دائمی امراض ،انفیکشن ،سرطان اورمتعدد امراض کے ساتھ اتفاقی رابطہ پایاجاتاہے۔محققین نے نتائج پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اعداد و شمار سے ظاہر کیا کہ جب آپ واقعی زیادہ بوڑھے ہوجاتے ہیں تو تلو مر کی لمبائی مزید عمر کی پیش گوئی نہیں کرتی ہے لیکن یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جن لوگوں میں 100برس جینے کااچھا امکان تھا اور جو 100سال سے زائد عمر کے لوگ تھے ،انہوں نے عام آدمی کے مقابلے میں تلومر کو زیادہ بہتر رکھا تھا۔نیو کاسل یونیورسٹی آف ایجنگ سے منسلک پروفیسر تھامس ون زیگلینیکی نے بتایاکہ انتہائی بڑھاپے تک پہنچننے کے لیے تلومر کی لمبائی کو برقرار رکھنا ضروری ہوسکتاہے۔تحقیق میں جن 100برس اور اس سے زائد عمر کے افراد کا معائنہ کیاگیاتھا ،ان میں خلیات کے ا ندر موجود عمر کو کنٹرول کرنے والا سینٹر تلومر زیادہ آہستہ آہستہ سکڑا تھا اور یہ خاصیت ان کی اولاد میں بھی پائی گئی۔پروفیسر تھامس ون نے کہاکہ 100سال اوراس سے زائد عمر جینے والے لوگ مختلف ہوتے ہیں بلکہ سادہ الفاظ میں کہاجاسکتاہے کہ ان میں عمر سست تھی ،وہ عام آدمی کے مقابلے میں خود کوبیماریوں سے زیادہ طویل عرصے تک بچاسکتے تھے۔رپورٹ میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اگرہم تلاش کرلیں کہ کیا چیز سو برس اور اس سے زائد عمر کے لوگوں کو مختلف بناتی ہے تو ممکن ہے کہ ہم بڑھتی عمر کے ساتھ اپنی صحت کو زیادہ بہتر بناسکیں



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…