بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

’وائرس سے بہرے پن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے‘

datetime 10  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جانوروں میں بہرے پن کا علاج کر کے انسان میں بہرے پن کی کچھ اقسام کے علاج کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔بچوں میں بہرے پن کے تقریباً نصف معاملات میں وجہ ان کے ڈی این اے میں موجود خرابی ہوتی ہے۔سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک وائرس اس جینیاتی خرابی کو دور کر سکتا ہے اور قوتِ سماعت کسی حد تک بحال کی جا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ دس برس میں بہرے بچوں کا علاج شروع ہو سکتا ہے۔امریکی اور سوئس سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں توجہ کان کے اندر موجود ان بالوں پر دی جو آوازوں کو ایسے برقی سگنل میں تبدیل کرتے ہیں جو دماغ سمجھ سکتا ہے۔تاہم ہمارے ڈی این اے میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ یہ بال برقی سگنل پیدا کرنے میں ناکام رہیں جس کی وجہ سے ہم سن نہیں پاتے۔ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر ہی پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔اس وائرس کا تجربہ ایک بہرے چوہے پر کیا گیا جو تجربے سے پہلے راکٹ فائر کیے جانے کی آواز سننے سے بھی قاصر تھا۔
وائرس داخل کیے جانے کے بعد اس کی قوتِ سماعت میں قابلِ ذکر بہتری آئی تاہم وہ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔اس ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر جیفری ہولٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔‘محققین کی ٹیم ابھی اس وائرس کے انسانوں پر تجربے کے لیے تیار نہیں اور وہ چاہتی ہے کہ اس طریقۂ علاج کے دیرپا اثرات دریافت کیے جا سکیں۔اس وائرل علاج سے کان کے بالوں کے اندرونی خلیوں میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور بیرونی خلیے ویسے ہی رہتے ہیں۔
یہ اندرونی خلیے ہی ہیں جو آواز سنائی دینے کا باعث بنتے ہیں جبکہ بیرونی خلیے آوازوں کی حساسیت سے تعلق رکھتے ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…