اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

’وائرس سے بہرے پن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے‘

datetime 10  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جانوروں میں بہرے پن کا علاج کر کے انسان میں بہرے پن کی کچھ اقسام کے علاج کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔بچوں میں بہرے پن کے تقریباً نصف معاملات میں وجہ ان کے ڈی این اے میں موجود خرابی ہوتی ہے۔سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک وائرس اس جینیاتی خرابی کو دور کر سکتا ہے اور قوتِ سماعت کسی حد تک بحال کی جا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ دس برس میں بہرے بچوں کا علاج شروع ہو سکتا ہے۔امریکی اور سوئس سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں توجہ کان کے اندر موجود ان بالوں پر دی جو آوازوں کو ایسے برقی سگنل میں تبدیل کرتے ہیں جو دماغ سمجھ سکتا ہے۔تاہم ہمارے ڈی این اے میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ یہ بال برقی سگنل پیدا کرنے میں ناکام رہیں جس کی وجہ سے ہم سن نہیں پاتے۔ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر ہی پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔اس وائرس کا تجربہ ایک بہرے چوہے پر کیا گیا جو تجربے سے پہلے راکٹ فائر کیے جانے کی آواز سننے سے بھی قاصر تھا۔
وائرس داخل کیے جانے کے بعد اس کی قوتِ سماعت میں قابلِ ذکر بہتری آئی تاہم وہ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔اس ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر جیفری ہولٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔‘محققین کی ٹیم ابھی اس وائرس کے انسانوں پر تجربے کے لیے تیار نہیں اور وہ چاہتی ہے کہ اس طریقۂ علاج کے دیرپا اثرات دریافت کیے جا سکیں۔اس وائرل علاج سے کان کے بالوں کے اندرونی خلیوں میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور بیرونی خلیے ویسے ہی رہتے ہیں۔
یہ اندرونی خلیے ہی ہیں جو آواز سنائی دینے کا باعث بنتے ہیں جبکہ بیرونی خلیے آوازوں کی حساسیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…