جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

’وائرس سے بہرے پن کا علاج ممکن ہو سکتا ہے‘

datetime 10  جولائی  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے جانوروں میں بہرے پن کا علاج کر کے انسان میں بہرے پن کی کچھ اقسام کے علاج کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔بچوں میں بہرے پن کے تقریباً نصف معاملات میں وجہ ان کے ڈی این اے میں موجود خرابی ہوتی ہے۔سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک وائرس اس جینیاتی خرابی کو دور کر سکتا ہے اور قوتِ سماعت کسی حد تک بحال کی جا سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی بنیاد پر آئندہ دس برس میں بہرے بچوں کا علاج شروع ہو سکتا ہے۔امریکی اور سوئس سائنسدانوں کی ٹیم نے اپنی تحقیق میں توجہ کان کے اندر موجود ان بالوں پر دی جو آوازوں کو ایسے برقی سگنل میں تبدیل کرتے ہیں جو دماغ سمجھ سکتا ہے۔تاہم ہمارے ڈی این اے میں تبدیلیوں کی وجہ سے یہ ممکن ہے کہ یہ بال برقی سگنل پیدا کرنے میں ناکام رہیں جس کی وجہ سے ہم سن نہیں پاتے۔ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر ہی پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔اس وائرس کا تجربہ ایک بہرے چوہے پر کیا گیا جو تجربے سے پہلے راکٹ فائر کیے جانے کی آواز سننے سے بھی قاصر تھا۔
وائرس داخل کیے جانے کے بعد اس کی قوتِ سماعت میں قابلِ ذکر بہتری آئی تاہم وہ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی۔اس ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر جیفری ہولٹ نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم اس سلسلے میں بہت پرجوش ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہم محتاط طور پر پرامید ہیں کیونکہ ہم جھوٹی امید نہیں دلانا چاہتے۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ہم نے علاج دریافت کر لیا ہے لیکن مستقبل قریب میں یہ جینیاتی بہرے پن کا علاج بن سکتا ہے اس لیے یہ ایک اہم دریافت ہے۔‘محققین کی ٹیم ابھی اس وائرس کے انسانوں پر تجربے کے لیے تیار نہیں اور وہ چاہتی ہے کہ اس طریقۂ علاج کے دیرپا اثرات دریافت کیے جا سکیں۔اس وائرل علاج سے کان کے بالوں کے اندرونی خلیوں میں تبدیلی لائی جاتی ہے اور بیرونی خلیے ویسے ہی رہتے ہیں۔
یہ اندرونی خلیے ہی ہیں جو آواز سنائی دینے کا باعث بنتے ہیں جبکہ بیرونی خلیے آوازوں کی حساسیت سے تعلق رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…