برلن (نیوزڈیسک)ہوا میں موجود آلودگی ختم کرنے کے نتیجے میں دنیا بھر میں سالانہ بنیادوں پر دو ملین انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ترقی یافتہ خطوں میں بھی فضائی آلودگی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔معروف سائنسی جرنل ’ماحولیاتی سائنس اور ٹیکنالوجی‘ میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین علاقوں کے علاوہ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھی فضائی آلودگی کو ختم کرنے سے اس آلودگی کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی ممکن ہے۔ اس رپورٹ کے معاون مصنف جولین مارشل نے بدھ 17 جون کو بتایا، ”ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ہوا کو آلودگی سے پاک کرنے کی ضرورت صرف آلودہ ترین ممالک میں ہی نہیں بلکہ اس کی ضرورت ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ہے۔“یونیورسٹی آف مینیسوٹا سے وابستہ مارشل نے مزید کہا، ”یہ تو ہمیں معلوم ہی تھا کہ فضائی آلودگی والے خطوں میں ہوا کو صاف بنانے کی ضرورت ہے لیکن تحقیق کے نتائج سے واضح ہوا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں بھی فضائی آلودگی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔“جولین مارشل کی ٹیم کی طرف سے تیار کردہ اس رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی سے بری طرح متاثرہ ممالک مثال کے طور پر روس، چین اور بھارت میں اگر ہوا کو اقوام متحدہ کے معیارات کے مطابق صاف کر لیا جائے تو ان ممالک میں سالانہ بنیادوں پر 1.4 ملین انسانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق ایسے خطے جہاں ہوا میں آلودگی زیادہ نہیں ہے، اگر وہاں فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کے اہداف کو یقینی بنایا جائے تو وہاں سالانہ بنیادوں پر آلودگی کے باعث نصف ملین قبل از وقت ہلاکتوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔آلودہ ہوا میں موجود انتہائی باریک ذرات عمل تنفس کے دوران پھیپھڑوں کے بہت زیادہ اندر چلے جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہی باریک ذرات سالانہ ایسی 3.2 ملین اموات کا باعث بن جاتے ہیں، جنہیں احتیاطی تدابیر کے باعث روکا جا سکتا ہے۔یونیوسٹی آف ٹیکساس سے منسلک جوشوآ آپٹے نئی دہلی میں اپنی تحقیق کے دوران اس رپورٹ کو تیار کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ جوشوآ آپٹے اور ان کے ساتھیوں نے اپنی توجہ ہوا میں موجود ایسے باریک ذرات پر مرکوز کی، جو 2.5 مائکرون سے بھی باریک اور چھوٹے تھے۔ ہوا میں موجود اس قسم کے ذرات دل کی بیماریوں، اسٹروکس، پھیپھڑوں کی پیچیدگیوں اور کینسر کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔اس طرح کے خطرناک ذرات کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس، کاروں سے خارج ہونی والی گیسوں اور صنعتی سبزمکانی گیسوں سے پیدا ہوتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں کھانا پکانے اور موسم سرما میں گھروں کو گرم کرنے کی خاطر کوئلے اور لکڑیوں کو جلانے کے عمل سے بھی یہ خطرناک ذرات ہوا میں شامل ہو جاتے ہیں۔یونیوسٹی آف ٹیکساس سے منسلک جوشوآ آپٹے نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”اس تحقیق کا مقصد تھا کہ تعین کیا جا سکے کہ ہوا کو کس قدر صاف کیا جائے کہ اس کی نتیجے میں ہونے والی اموات پر قابو پانا ممکن ہو جائے۔ ہمیں یقین ہے کہ جو ماڈل ہم نے تخلیق کیا ہے، اس کی مدد سے صحت عامہ کے شعبے میں بہتری کے لیے ایک کامیاب حکمت عملی ترتیب دی جا سکتی ہے۔“
صاف ہوا سالانہ دو ملین جانیں بچا سکتی ہے،رپورٹ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
امریکی ویزا کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے بڑا اعلان
-
وزیراعظم شہباز شریف کے آموں کے تحفے پر ہنگری کے وزیراعظم کا دلچسپ پیغام
-
کون سا پاکستانی شہری اب ملک میں داخل نہیں ہو سکے گا؟ ہوائی اڈوں کو ہدایات جاری
-
بھارت و افغانستان کا ڈی این اے ایک جیسا ہے، افغان وزیر کو کہنا مہنگا پڑ گیا
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان
-
پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)
-
لاہور میں فیکٹری مالک کو انسپکشن کیلئے آنے اسسٹنٹ کمشنر سے تعارف پوچھنا مہنگا پڑ گیا
-
وفاقی کابینہ میں ردوبدل کا امکان، نئے نام زیر غور
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
سعودی عرب کا نیا “پیکیج ویزا” متعارف، پاکستان سمیت 7 ممالک کے شہری مستفید ہوں گے
-
سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی،فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
-
5 سالہ سروس مکمل کرنے والے ملازمین کے لئے اہم خبر آگئی
-
عمران ہاشمی سے ملائی جانے والی سحر ہاشمی کا رد عمل سامنے آگیا
-
سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے بت مسمار کر کے “غلطی” کی ، افغان وزیر کا بیان، اسلامی...



















































