اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پولیو قطرے پلانے سے انکار, ایک جرم

datetime 14  جون‬‮  2015 |

کوئٹہ(نیوزڈیسک )بلوچستان حکومت نے انسداد پولیو کے حوالے سے مزید اقدامات کرتے ہوئے پولیو سے بچاو کے قطرے پلانے سے انکار کو ’جرم‘ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاو کی قطرے لازمی پلانے کے لئے ویکسینیشن ایکٹ کو بلوچستان اسمبلی میں جلد پیش کیا جائے گا۔اس ایکٹ کے تحت بچوں کو پولیو سے بچاو¿ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کو سزائیں بھی دی جائیں گی۔بلوچستان میں محکمہ صحت کے سیکرٹری نور الحق بلوچ نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ ’ہم صوبائی اسمبلی میں پولیو ویکسینیشن ایکٹ پیش کرنے کے لئے ایک مسودہ تشکیل دے رہے ہیں‘۔نورالحق کا کہنا ہے کہ جب تک والدین کی جانب سے انکار کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اس وقت تک پولیو وائرس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔صوبائی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے کی وجہ سے اس کے اطراف میں موجود 200 میٹرز تک تمام بچے اس وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’قطرے پلانے سے انکار کرنا جرم کے مترادف ہے‘۔خیال رہے کہ بلوچستان کے محکمہ صحت کی جانب سے کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور پشن کے 45 یونین کونسلز کو پولیو کے حوالے سے انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے۔صوبائی محکمہ صحت نے ان یونین کونسلز میں پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو پروگرام میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔صوبائی حکام کے مطابق حکومت کی جانب سے جاری انسداد پولیو مہم کے دوران صوبے کے 90 فیصد والدین نے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے ہیں جبکہ 10 فیصد والدین نے انکار کیا۔نورالحق کے مطابق حکومت نے انسداد پولیو مہم کے لئے بلوچستان کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے یونین کونسلرز سے رابطے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کونسلرز اس حوالے سے محکمہ صحت کے حکام سے ماہانہ ملاقاتیں بھی کرے گے‘۔یاد رہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں پولیو وائرس کے خطرے کے پیش نظر ’ایمرجنسی‘ کا اعلان کیا جاچکا ہے۔سال 2011ءکے دوران بلوچستان بھر سے پولیو کے 73 کیسز رپورٹ ہوئے اور صوبائی محکمہ صحت، یونیسیف اور ڈبلو ایچ او کی مدد سے ان میں بتدریج کمی آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…