اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

تھائی لینڈکی جان لیواخوراک

datetime 14  جون‬‮  2015 |

بینکاک (نیوزڈیسک )تھائی لینڈ کے شمال مشرقی حصے میں ایک مقامی مرغوب غذا کو کچی مچھلی سے تیار کیا جاتا ہے، لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس علاقے میں جگر کے سرطان کی ایک بڑی وجہ یہی خوراک ہے اور ڈاکٹر اس بارے میں لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
تھائی لینڈ کے شمال مشرق میں واقع اسان سطح مرتفع غریب، خشک اور سمندر سے دور ہے۔ تھائی لینڈ کی ایک تہائی آبادی اسی خطے میں آباد ہے، جن میں بیشتر لا نسل سے ہیں۔
یہ علاقہ مرچ مصالحے دار کھانوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے جو دستیاب اجزائے ترکیبی سے تیار کیے جاتے ہیں۔جہاں کہیں بھی جھیلیں یا دریا ہیں وہ ایک چھوٹی قسم کی مچھلی کوئی پلا نامی ڈش کی تیاری میں استعمال کرتے ہیں۔ مچھلی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے اور ہاتھوں کی مدد سے جڑی بوٹیوں، لیموں کے جوس اور زندہ سرخ چونٹیوں کے ساتھ مکس کیا جاتا ہے۔یہ ایک من پسند غذا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی۔کئی دہائیوں سے شمال مشرقی علاقے کی مخصوص آبادی میں جگر کے سرطان کی شرح غیرمعمولی طور پر بلند ہے۔
مردوں میں سرطان کے تمام کیسز میں 50 فیصد جگر کے سرطان کے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر یہ اوسط دس فیصد ہے۔جگر کے سرطان کی اس بلند شرح کا تعلق کچی مچھلی میں موجود ایک پیراسائیٹ لیور فلوک سے ہے۔جگر کے سرطان کی بلند شرح کا تعلق کچی مچھلی میں موجود ایک پیراسائیٹ لیور فلوک سے ہے ۔لیکن ایسا محض گذشتہ دہائی میں ہی ہوا ہے کہ لوگوں کو ان کے کھانے کی عادات میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی ہے، یعنی ان جراثیم کو مارنے کے لیے کوئی پلا کو پکا کر کھانا۔ان کوششوں کا سہرا کھون کائن یونیورسٹی کی ٹراپیکل ڈیزیز ریسرچ لیبارٹری کے ڈاکٹر بان چوب سریپا کے سر ہے۔وہ کہتے ہیں: ہم گذشتہ 30 برسوں اپنی لیبارٹریوں میں اس تعلق کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
ہمیں علم ہوا ہے کہ لیور فلوک ایک ایسا کیمیائی مادہ پیدا کرتے ہیں جو قوت مدافعت کو متاثر کرتا ہے یعنی سوزش اور کئی برسوں بعد یہ سوزش سرطان کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…