اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

مطلقہ افرادکو دل کا دورہ پڑنے کے زیادہ امکانات

datetime 16  اپریل‬‮  2015 |

امریکہ (نیوز ڈیسک ) کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق مطلقہ افراد کو شادی شدہ افراد کی نسبت دل کا دورہ پڑنے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔15 ہزار سے زیادہ افراد پر کی جانے والی اس تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ دل کی بیماری کی شرح عورتوں میں زیادہ ہے اور شادی شدہ عورتیں مردوں کی نسبت اس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔جنرل سرکولیشن‘ نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ طلاق کی وجہ سے پیدا ہونے والے ذہنی تناو¿ سے جسمانی اعضا متاثر ہوتے ہیں۔دوسری جانب برٹش ہارٹ فاو¿نڈیشن کا کہنا ہے کہ طلاق کو دل کی بیماری کا بڑا سبب قرار دینے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔یہ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ کسی قریبی عزیز کی موت سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے اور اب ڈیوک یونیورسٹی کی ٹیم کی اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق سے بھی کچھ اسی قسم کا اثر پڑتا ہے۔سنہ 1992 سے 2010 کے درمیان کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق طلاق یافتہ خواتین میں شادی شدہ خواتین کی نسبت دل کا دورہ پڑنے کا امکان 24 فیصد زیادہ ہوتا ہے اور جن کی ایک سے زیادہ دفعہ طلاق ہوئی ہو، ان کو دل کی بیماری ہونے کا امکان 77 فیصد بڑھ جاتا ہے۔دوسری جانب مطلقہ مردوں کو دل کا دورہ پڑنے کے امکان میں صرف دس سے 33 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔تحقیق کرنے والی ٹیم کی ایک رکن پروفیسر لِنڈا جارج کا کہنا ہے کہ ’طلاق سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان اتنا ہی بڑھ جاتا ہے جتنا ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشرسے بڑھتا ہے۔‘ہمیں کافی عرصہ سے معلوم ہے کہ ذہنی صحت ہمارے دل کو متاثر کرتی ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن یہ تحقیق سو فیصد حتمی نہیں ہے۔پروفیسر جرمی پیرسنان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر عورتیں دوبارہ بھی شادی کر لیں تو ان میں بیماری کا خطرہ کچھ زیادہ کم نہیں ہوتا لیکن مردوں میں دوبارہ شادی کرنے سے دل کے دورے کا امکان کافی کم ہو جاتا ہے۔‘پروفیسر لنڈا جارج کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مرد مختلف خواتین کے ساتھ خوشی خوشی زندگی گزارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ دوسری جانب خواتین اپنی پہلی شادی میں خود کو زیادہ محفوظ سمجھتی ہیں اس لیے طلاق سے ان کی صحت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔‘مدافعتی نظام پر اثر؟تحقیق کرنے والی ٹیم کو پتہ چلا ہے کہ طرزِ زندگی میں ردوبدل، جیسا کہ آمدنی میں کمی وغیرہ دل کی بیماری لاحق ہونے کے امکان میں اضافے کی وضاحت نہیں کرتا۔پروفیسر لنڈا جارج کے مطابق طلاق سے انسان ذہنی دباو¿ کا شکار ہو جاتا ہے جس سے مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے اور اگر یہ سلسلہ زیادہ عرصہ چلتا رہے تو انسانی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔دوا سے بلڈ پریشر تو کنٹرول کیا جاسکتا ہے مگر طلاق کا دکھ کم نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ محققین کاکہنا ہے کہ سچے دوست اس سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔برٹش ہارٹ فاو¿نڈیشن سے وابستہ پروفیسر جیرمی پیرسن کا کہنا ہے کہ ’ہمیں کافی عرصہ سے معلوم ہے کہ ذہنی صحت ہمارے دل کو متاثر کرتی ہے۔ اس تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلاق سے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن یہ تحقیق سو فیصد حتمی نہیں ہے۔‘پروفیسر جیرمی کامزید کہنا تھا کہ ’طلاق کو دل کی بیماری ہونے کی اہم وجہ قرار دینے سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…