اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آٹزم کی بیماری تاحال بچوں میں پیدائشی طور پر پائی جانے والی ایک لاعلاج نفسیاتی بیماری سمجھی جاتی ہے، عام طور پر بچوں کے تین سے چار برس کا ہونے پر اس بیماری کا انکشاف ہوتا ہے جب والدین بچے کی تربیت پر خاص توجہ دینا شروع کرتے ہیں تاہم اب ماہرین نے چھوٹے بچوں کے دماغی سکینز کے جائزے سے معلوم کیا ہے کہ آٹزم کا شکار بچوں کے دماغی طور پر سیکھنے کی صلاحیتوں کو اس عمر سے بہت پہلے جاننا ممکن ہے جس عمر میں ان کی بیماری کا علم ہوتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ماہرین ایک خاص طرح کا ٹیسٹ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس سے یہ علم بھی ہوسکے گا کہ اس مرض کی نوعیت کیا ہوگی اور کیا اس کی شدت کم ہونے کی صورت میں تھراپیز کی مدد سے اسے اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جاسکے گا کہ نہیں۔
نیورون نامی جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں ماہرین نے آٹھ برس کے طویل عرصے کے دوران103بچوں پر تحقیق کی تھی۔ اس تحقیق میں ماہرین نے یہ جانا ہے کہ چند ماہ کی عمر کے بچے جو نہ صرف الفاظ کے استعمال سے نابلد ہوتے ہیں بلکہ ان کیلئے ان الفاظ کی ادائیگی پر مناسب ردعمل بھی نہیں آتا ہے، ان کے دماغ کے ردعمل ظاہر کرنے کے طریقے سے بھی یہ جانا جاسکتا ہے کہ وہ صحت مند بچے ہوں گا یا نہیں۔ صحت مند بچے جو کہ مستقبل میں الفاظ پر درست ردعمل ظاہر کرنا شروع کردیتے ہیں، ان کا دماغ سوتے میں بھی الفاظ سننے پرردعمل ظاہر کرتا ہے جبکہ آٹزم کا شکار ہونے والے بچوں میں دماغ ردعمل جاری کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں ماہرین نے یہ بھی جانا ہے کہ آٹزم کی مختلف کیفیات کو ایک ہی بیماری سمجھنا بھی غلط ہے بلکہ اس کی نوعیت، شدت کی روشنی میں اسے مختلف بیماریوں کی فہرست میں رکھا جانا چاہئے اور ان کے علاج کیلئے طریقہ کار بھی مختلف طرح کا اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔
اس تحقیق کی روشنی میں آٹزم سنٹر کے ڈائریکٹر نیوروسائنٹسٹ ایرک کورچیسن کہتے ہیں کہ اس تحقیق کی روشنی میں ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ آٹزم کا شکار بچوں میں سے کچھ علاج کے ساتھ بہتر کیوں ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ پر کوئی فرق نہیں پڑنے پاتا۔ دماغی ردعمل میں انتہائی ابتدائی مراحل پر آنے والی یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ آٹزم کی کم از کم بھی دو اقسام ہیں اور امکان ہے کہ ان کی وجوہات بھی مختلف ہوں۔ اس تحقیق میں ماہرین نے محسوس کیا تھا کہ معمول کی ذہنی صحت کے حامل بچوں میں دوران نیند بھی الفاظ کو سننے پر دماغ کا وہ حصہ ردعمل ظاہر کرتا تھا جو کہ زبان، یادداشت، جذبات اور معاشرے میں چیزوں کو سوچنے سمجھنے کیلئے کام کرتا ہے جبکہ آٹزم کا شکار بچوں میں دماغ کے اس حصے میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی گئی تھی۔
آٹزم کا پیدائش کے ابتدائی چند ماہ میں بھی سراغ لگانا ممکن
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرول کتنے روپے سستا ہوگا؟ وزیراعظم نے عوام کو خوشخبری سنا دی
-
این ڈی ایم اے کا ممکنہ شدید گرمی کے پیش نظر الرٹ جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں، وزیراعظم کا آج قوم سے خطاب متوقع
-
لاہو رکے علاقے ڈیفنس میں 2 سوشل میڈیا سٹارز لڑکیوں کے ساتھ مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
-
پانچ مرلہ کے گھر پر سنگل فیز میٹر لگانے پر پابندی عائد
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ہر بچے کا ’’ب فارم‘‘ اب ایک بار نہیں 3 بار بنے گا! نیا طریقہ کار متعارف
-
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی، سعودی عرب کا اہم بیان سامنے آگیا
-
جائیداد رکھنے، خرید و فروخت کرنے والوں پر بڑی شرط عائد کرنے کی تیاری
-
ملک بھر میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
پولیس حراست میں باپ بیٹے کی ہلاکت پر 9 اہلکاروں کو سزائے موت کی سزا
-
9 اور 10 اپریل کو مقامی چھٹی کا اعلان



















































