منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ہماری عادتیں بگڑ گئی ہیں لیکن دیسی کھانوں سے پکے پکائے کھانوں کا مقابلہ

datetime 21  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔حالیہ کچھ سالوں میں پاکستانیوں نے بحیثیت صارفین اپنی ترجیحات میں تبدیلی کرتے ہوئے قدرتی کھانوں کے بجائے کمرشل طور پر تیار کیے گئے پراسسڈ کھانوں پر انحصار کرنا شروع کردیا ہے، اور اس کی قیمت نہ صرف ہماری صحت ہے، بلکہ کھانے کے معاملے میں ہمارا کلچر اور روایات بھی ہیں۔مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں ہم اپنے مہمانوں کو چائے، بسکٹ، اور نمکو پیش کیا کرتے تھے۔ لیکن پچھلی دو دہائیوں میں مڈل کلاس گھرانوں نے اپنے مہمانوں کی خاطر تواضع پراسس کی گئی چیزوں سے کرنی شروع کردی ہے۔حال ہی میں میرا ایک ڈنر پارٹی میں جانا ہوا، اور وہاں میزبان نے میرے سامنے ٹن پیک میں آ م کا ملک شیک پیش کیا۔ میں نے کہا کہ ٹیبل پر جو تازہ پھل ا رام کر رہے ہیں، ان کا ملک شیک اس سے زیادہ اچھا بن سکتا تھا، تو میزبان کو ایک لحظے کے لیے دھچکا لگا اور اس نے کہا، ‘لیکن اس کا ذائقہ زیادہ اچھا ہے’۔ایک اور دوست کے گھر میرے سامنے کالی چائے خشک دودھ کے ساتھ پیش کی گئی۔ میں نے جب تازہ دودھ کے لیے کہا تو دوست نے خوشدلی کے ساتھ میری خواہش پوری کرتے ہوئے کہا ‘ویسے خشک دودھ کی چائے زیادہ اچھی بنتی ہے’۔اس سے بھی زیادہ عام مہمانوں کے سامنے ٹھنڈی کوکا کولا پیش کرنا ہے۔پراسسڈ فوڈ کمپنیوں نے اشتہاروں کے ذریعے اینرجی اور ریفریشمنٹ کو ایک برانڈ امیج بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنی پراڈکٹس کے لیے نئے خریدار ملتے ہیں۔کوکا کولا اس سال پاکستان میں اپنی گروتھ میں دو ہندسوں کی شرح سے ترقی کی امید کر رہی ہے۔ پیپسی کولا پاکستان کو اپنی دنیا بھر میں ٹاپ ٹین مارکیٹس میں شمار کرتی ہے، جبکہ ماؤنٹین ڈیو کی فروخت دنیا میں سب سے زیادہ امریکہ میں اور دوسرے نمبر پر پاکستان میں ہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…