منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بننے کا خواب دیکھ دیکھنے لگا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت دنیا میں اسلحے کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ ملکی ضرروت کے دفاعی سازوسامان کو نہ صرف ملک کے اندر تیار کرنا چاہتا ہے بلکہ چین کی طرح چند سالوں میں اسلحے کا سب سے بڑا ڈیلر بننا چاہتا ہے۔ اس لئے اس نے کئی دفاعی سودے منسوخ کر دیے ہیں۔ آئندہ 7 برسوں میں بھارت سوویت دور کے ہتھیاروں کو اپ گریڈ کرنے کی خاطر اسلحہ درآمد کرنے پر 130 ارب ڈالرز خرچ کرے گا۔ اخبار کے مطابق بھارت دنیا کے اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے لیکن اب وہ اسلحے کا سب سے بڑا ڈیلر بننے کا خواہاں ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ میں بھارت نے 200 سے زائد پرانے طیاروں کی جگہ ایک ارب ڈالر سے زائد کے ہیلی کاپٹر خریدے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا خریدار اور عالمی اسلحہ میں اس کی 14 فیصد درآمدات ہیں جو کہ چین سے تقریبا تین گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں بھارت نے اسلحے کی درآمد پر 14 ارب ڈالرز خرچ کئے جن میں سے 5 ارب ڈالرز کا اسلحہ اس نے امریکا سے خریدا جبکہ روس سے چار ارب ڈالرز کا خریدا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھارت پر اسلحے کا سب سے بڑا درآمد کنندہ کا لیبل ختم کرکے ملک میں تمام فوجی سازوسامان کی تیاری کے علاوہ سب سے بڑا برآمد کنندہ بننا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھارت نے دفاعی سازوسامان کی نجی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کیلئے 60 فیصد لائسنس کی ضروریات کو ہٹا دیا ہے اور ان فرموں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حد 26 سے 49 فیصد کر دی ہے۔ مئی میں امریکہ اور بھارت نے اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل، کیریئر بیسڈائیر کرافٹ لانچنگ نظام اور ڈرونز کی مشترکا پیداوار کے لئے مذاکرات کئے۔ بھارتی حکومت کے اسلحے کے اس جنون کے باوجود دفاعی ماہرین کہتے ہیں کہ چین کی طرح بھارت اتنی بڑی چھلانگ لگانے کے قابل نہیں ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…