اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

وائس چانسلر نے طالبات کو لائبریری آنے سے کیوں روکا جاننے کے لئے کلک کریں

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

علی گڑھ ۔۔۔بھارت میں ایک عدالت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو لائبریری میں داخلے کی اجازت نہ دینے کو ملک کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ریاست اترپردیش میں واقع ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِتعلیم کئی ہزار انڈرگریجویٹ طالبات کو کیمپس کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائبریری میں طالبات کی موجودگی سے لڑکے اْن کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں گے اور یہ کہ لائبریری میں لڑکیوں کے لیے مطلوبہ تعداد میں نشستیں بھی نہیں ہیں۔انھوں نے طالبات کو یہ مشورہ بھی دے دیا ہے کہ وہ لائبریری جانے کی بجائے انٹرنیٹ سے لائبریری کتابیں آرڈر کیا کریں۔اس پابندی کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک ’ایچ آر ایل این‘ کی حمایت میں الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ایچ آر ایل این کی وکیل سمرتھی کرتیکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر لائبریری تک رسائی تمام طالب علموں کا بنیادی حق ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر لائبریری میں طالبات کے لیے زیادہ نشستیں نہیں ہیں تو اس صورت میں یونیورسٹی انھیں جگہ فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔عدالت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت ایک ہزار انڈر گریجویٹ طالب علم ہیں اور ان میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔بھارت میں ایک عدالت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو لائبریری میں داخلے کی اجازت نہ دینے کو ملک کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ریاست اترپردیش میں واقع ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِتعلیم کئی ہزار انڈرگریجویٹ طالبات کو کیمپس کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائبریری میں طالبات کی موجودگی سے لڑکے اْن کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں گے اور یہ کہ لائبریری میں لڑکیوں کے لیے مطلوبہ تعداد میں نشستیں بھی نہیں ہیں۔انھوں نے طالبات کو یہ مشورہ بھی دے دیا ہے کہ وہ لائبریری جانے کی بجائے انٹرنیٹ سے لائبریری کتابیں آرڈر کیا کریں۔اس پابندی کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک ’ایچ آر ایل این‘ کی حمایت میں الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
ایچ آر ایل این کی وکیل سمرتھی کرتیکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر لائبریری تک رسائی تمام طالب علموں کا بنیادی حق ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر لائبریری میں طالبات کے لیے زیادہ نشستیں نہیں ہیں تو اس صورت میں یونیورسٹی انھیں جگہ فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔عدالت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت ایک ہزار انڈر گریجویٹ طالب علم ہیں اور ان میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔وائس چانسلر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیرالدین شاہ نے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی لائبریری میں نشستیں محدود تھیں۔
اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر کے بقول لائبریری میں بیھٹنے کی گنجائش پہلے ہی بہت کم ہے اور اگر انڈر گریجویٹ طالبات کو رسائی دی گئی تو اس صورت میں طلبہ بھی پیچھے آنا شروع ہو جائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انڈر گریجویٹ طالبات کے کالج سے لائبریری تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور طالبات کو لائبریری آتے ہوئے جنسی ہراس کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔طالبات کو لائبریری سے آن لائن کتابیں حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہے تاہم اس فیصلے کے خلاف طالبات نے احتجاج بھی کیا ہے۔یونیورسٹی کے اس فیصلے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سیاست دانوں نے شدید تنقید کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…