جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

وائس چانسلر نے طالبات کو لائبریری آنے سے کیوں روکا جاننے کے لئے کلک کریں

datetime 16  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

علی گڑھ ۔۔۔بھارت میں ایک عدالت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو لائبریری میں داخلے کی اجازت نہ دینے کو ملک کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ریاست اترپردیش میں واقع ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِتعلیم کئی ہزار انڈرگریجویٹ طالبات کو کیمپس کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائبریری میں طالبات کی موجودگی سے لڑکے اْن کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں گے اور یہ کہ لائبریری میں لڑکیوں کے لیے مطلوبہ تعداد میں نشستیں بھی نہیں ہیں۔انھوں نے طالبات کو یہ مشورہ بھی دے دیا ہے کہ وہ لائبریری جانے کی بجائے انٹرنیٹ سے لائبریری کتابیں آرڈر کیا کریں۔اس پابندی کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک ’ایچ آر ایل این‘ کی حمایت میں الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ایچ آر ایل این کی وکیل سمرتھی کرتیکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر لائبریری تک رسائی تمام طالب علموں کا بنیادی حق ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر لائبریری میں طالبات کے لیے زیادہ نشستیں نہیں ہیں تو اس صورت میں یونیورسٹی انھیں جگہ فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔عدالت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت ایک ہزار انڈر گریجویٹ طالب علم ہیں اور ان میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔بھارت میں ایک عدالت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی انتظامیہ کی جانب سے طالبات کو لائبریری میں داخلے کی اجازت نہ دینے کو ملک کے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ریاست اترپردیش میں واقع ملک کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیرِتعلیم کئی ہزار انڈرگریجویٹ طالبات کو کیمپس کی مرکزی مولانا آزاد لائبریری میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ لائبریری میں طالبات کی موجودگی سے لڑکے اْن کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں گے اور یہ کہ لائبریری میں لڑکیوں کے لیے مطلوبہ تعداد میں نشستیں بھی نہیں ہیں۔انھوں نے طالبات کو یہ مشورہ بھی دے دیا ہے کہ وہ لائبریری جانے کی بجائے انٹرنیٹ سے لائبریری کتابیں آرڈر کیا کریں۔اس پابندی کے خلاف غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس لا نیٹ ورک ’ایچ آر ایل این‘ کی حمایت میں الہ آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
ایچ آر ایل این کی وکیل سمرتھی کرتیکا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، ذات اور جنس سے قطع نظر لائبریری تک رسائی تمام طالب علموں کا بنیادی حق ہے۔عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر لائبریری میں طالبات کے لیے زیادہ نشستیں نہیں ہیں تو اس صورت میں یونیورسٹی انھیں جگہ فراہم کرنے کے اقدامات کرے۔عدالت نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اپنا جواب داخل کرنے کے لیے 24 نومبر کو طلب کیا ہے۔علی گڑھ یونیورسٹی میں اس وقت ایک ہزار انڈر گریجویٹ طالب علم ہیں اور ان میں سے اکثریت طالبات کی ہے۔وائس چانسلر لیفٹینیٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیرالدین شاہ نے پابندی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں بھی لائبریری میں نشستیں محدود تھیں۔
اطلاعات کے مطابق وائس چانسلر کے بقول لائبریری میں بیھٹنے کی گنجائش پہلے ہی بہت کم ہے اور اگر انڈر گریجویٹ طالبات کو رسائی دی گئی تو اس صورت میں طلبہ بھی پیچھے آنا شروع ہو جائیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ انڈر گریجویٹ طالبات کے کالج سے لائبریری تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور طالبات کو لائبریری آتے ہوئے جنسی ہراس کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔طالبات کو لائبریری سے آن لائن کتابیں حاصل کرنے کی سہولت حاصل ہے تاہم اس فیصلے کے خلاف طالبات نے احتجاج بھی کیا ہے۔یونیورسٹی کے اس فیصلے پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور سیاست دانوں نے شدید تنقید کی تھی۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…