ہفتہ‬‮ ، 05 ستمبر‬‮ 2026 

مسلمانوں کی قدیم درس گاہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مین خواتین پر کیسی شرط آئد ہے۔ ملاحظہ فرمایئں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی: ہندوستان کی قدیم تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مرکزی لائبریری میں خواتین کا داخلہ بند ہے۔

یونیورسٹی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طالبات کی وجہ سے لائبریری آنے والےلڑکوں کی’توجہ بھٹک‘سکتی ہے۔

انتہائی معتبر یونیورسٹی کے خواتین کالج میں پڑھانے والی اسسٹنٹ پروفیسر شاداب بانو نے اس حوالے سے بتایا کہ ان کی طالبات کو مختلف حیلے بہانے بناتے ہوئے مرکزی لائبریری میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا۔

’ہم بہت عرصہ سے کوشش کر رہے ہیں، ہم جب بھی مطالبہ کرتے ہیں حکام کوئی نہ کوئی وجہ بتاتے ہوئے لڑکیوں کو لائبریری جانے نہیں دیتے‘۔

’اس سے پہلے کہا جاتا تھا کہ لائبریری جانے والا راستہ محفوظ نہیں اور اب یہ نیارخ سامنے آیا ہے‘۔

دوسری جانب، ہندوستان کی وزیر تعلیم سمرتی ایرانی نے بھی ٹائمز آف انڈیا کی اس خبر پر غصہ ظاہر کیا ہے جس میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ کو اس رویہ کا ذمہ دار ٹراایا گیا ہے۔

سمرتی کا کہنا ہے کہ اگر خواتین پر پابندی نہ لگائی جائے تو لائبریری میں ’چار گنا‘زیادہ لڑکے آئیں گے۔

سمرتی نے صحافیوں کو بتایا کہ بطور ایک خاتون اس طرح کی خبروں پر صرف افسوس ہی نہیں بلکہ غصہ بھی آتا ہے۔

’میں نے ہائی ایجوکیشن سیکریٹری سے مزید تفصیلات اور یونیورسٹی سے وضاحت مانگی ہے، ایک تعلیمی ادارے سے سامنے آنی والی ایسی خبریں ہماری بیٹیوں کے لےی توہین آمیز ہیں‘۔

یونیورسٹی کے اس فیصلے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

ایک سینئر سیاست دان یوگندر یادیو نے ٹویئٹر پر کہا ’ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب آپ اسی احمقانہ منطق کی بنیاد پر لڑکیوں کا کلاس میں بھی داخلہ بند کر دیں‘۔

یونیورسٹی کے ایک ترجمان راحت ابرار کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کے بیان کا ’غلط مطلب‘نکالا گیا۔

’انہوں نے صرف اتنا کہا تھا کہ یونیورسٹی کے موجودہ انفرا سٹرکچر کو دیکھتے ہوئے طالبات کو اجازت دینے سے لائبریری کے اندر رش بڑھ سکتا ہے‘۔

’جب مناسب ہو گا لڑکیوں کو اجازت مل جائے گی۔ ویمنز کالج کی اپنی لائبریری بہت اچھی ہے اور طالبات اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں‘۔

خیال رہے کہ ریاست اتر پردیش میں واقع 150 سال پرانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جڑیں مغرب سے متاثر ہو کر علاقے میں بنائے گئے اسکولوں پر ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…