کراچی۔۔۔۔پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ شام و عراق میں سرگرم جہادی تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں البتہ ایسے گروپ ضرور موجود ہیں جو ان کے حامی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق کراچی میں رینجرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی دہشت گرد تنظیم یا عسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، اگر وہ دولتِ اسلامیہ کو ’اپنا رہے ہیں‘ تو یہ علیحدہ بات ہے انھوں نے کہا کہ ایسی کئی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سرحد کے اندر اور باہر سرگرم عمل ہیں مگر دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے، اس لیے اس معاملے کو ہوا دینا نامناسب ہے۔واضح رہے کہ بنوں، کراچی، ملتان اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کی حمایت میں وال چاکنگ کی گئی ہے، اور پشاور میں اس حوالے سے پیمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق لاہور کے بعض علاقوں میں پوسٹر اور سٹکر دیکھے گئے ہیں۔کراچی میں گذشتہ روز ڈی آئی جی شرقی منیر شیخ نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ سہراب گوٹھ اور جمشید کوارٹر کے علاقوں میں وال چاکنگ کی گئی ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان حکومت بھی دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے حوالے سے خط تحریر کر کے اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہے۔چوہدری نثار نے کراچی ڈاک یارڈ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں بتایا کہ پاکستان بحریہ کی تفتیش کے مطابق اس واقعے میں دہشت گرد تنظیمیں ملوث تھیں لیکن اس میں اندر کے لوگ بھی شامل تھے جن میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازم شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے کراچی میں رینجرز کے کردار کی تعریف کی اور بتایا کہ 14 ماہ میں رینجرز نے 4000 سے زائد سرچ آپریشنز کیے ہیں جن میں 7500 کے قریب گرفتاریاں کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ ڈاک یارڈ پر حملے کے بعد القاعدہ جنوبی ایشیا نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس حملے کا مقصد ڈاک یارڈ پر حملہ نہیں بلکہ پاکستانی بحریہ کے جہازوں پر قبضہ اور امریکی و بھارتی بحریہ کو نشانہ بنانا تھا۔اس بیان میں نیوی کے سیکنڈ لیفٹیننٹ ذیشان رفیق اور اویس جکھرانی کی قبائلی علاقے میں تربیت کی تصاویر بھی دی گئی تھیں۔
واہگہ بارڈر پر حملے کے متعلق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مشترکہ تفتیشی رپورٹ ایک دو روز میں آجائیگی اور اس حوالے سے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔وفاقی وزیر نے کراچی میں رینجرز کے کردار کی تعریف کی اور بتایا کہ کراچی میں آپریشن جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ 14 ماہ میں رینجرز نے 4000 سے زائد سرچ آپریشنز کیے ہیں جن میں 7500 کے قریب گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
چوہدری نثار نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران دہشت گردی کی مصدقہ اطلاعات تھیں لیکن محرم کے دوران اہم گرفتاریاں ہوئیں جس میں رینجرز نے بنیادی کردار ادا کیا۔
تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ،چوہدری نثار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مبینہ پولیس مقابلے میں بدنام زمانہ ٹک ٹاکر ہلاک
-
بدھ کو عام تعطیل کا اعلان
-
ہمارا امیرالعظیم
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
رجب بٹ کی دولت کتنی ہے؟ پہلی بار حیران کن انکشافات سامنے آگئے
-
انسان کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہو سکتی ہے؟ نئی تحقیق سامنے آگئی
-
فیفا صدر کا ارجنٹینا فٹبال فیڈریشن کو بھیجا گیا خط لیک ہوگیا
-
سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں اضافہ، نیا نوٹیفکیشن جاری
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان
-
محکمہ موسمیات کی ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت
-
آئی فون 18 کی ریلیز سے متعلق ایپل کا بڑا فیصلہ!
-
اورنج ٹرین، سپیڈو اور میٹرو بسوں میں ٹوکن اور کارڈ سسٹم ختم
-
محبوبہ نے آشنا کو گھر بلا کر بلیڈ سے اس کا نازک عضو کاٹ دیا
-
طبی ماہرین نے سگریٹ نوشی کی عادت چھوڑنے میں مددگار آسان طریقہ دریافت کرلیا



















































