اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ،چوہدری نثار

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ شام و عراق میں سرگرم جہادی تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں البتہ ایسے گروپ ضرور موجود ہیں جو ان کے حامی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق کراچی میں رینجرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کئی لوگ ایسے ہیں جو کسی نہ کسی دہشت گرد تنظیم یا عسکریت پسند گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، اگر وہ دولتِ اسلامیہ کو ’اپنا رہے ہیں‘ تو یہ علیحدہ بات ہے انھوں نے کہا کہ ایسی کئی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان کی سرحد کے اندر اور باہر سرگرم عمل ہیں مگر دولتِ اسلامیہ نامی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے، اس لیے اس معاملے کو ہوا دینا نامناسب ہے۔واضح رہے کہ بنوں، کراچی، ملتان اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کی حمایت میں وال چاکنگ کی گئی ہے، اور پشاور میں اس حوالے سے پیمفلٹ تقسیم کیے گئے ہیں۔بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق لاہور کے بعض علاقوں میں پوسٹر اور سٹکر دیکھے گئے ہیں۔کراچی میں گذشتہ روز ڈی آئی جی شرقی منیر شیخ نے پریس کانفرنس میں اعتراف کیا تھا کہ سہراب گوٹھ اور جمشید کوارٹر کے علاقوں میں وال چاکنگ کی گئی ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان حکومت بھی دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے حوالے سے خط تحریر کر کے اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہے۔چوہدری نثار نے کراچی ڈاک یارڈ حملے کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں بتایا کہ پاکستان بحریہ کی تفتیش کے مطابق اس واقعے میں دہشت گرد تنظیمیں ملوث تھیں لیکن اس میں اندر کے لوگ بھی شامل تھے جن میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازم شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے کراچی میں رینجرز کے کردار کی تعریف کی اور بتایا کہ 14 ماہ میں رینجرز نے 4000 سے زائد سرچ آپریشنز کیے ہیں جن میں 7500 کے قریب گرفتاریاں کی گئی ہیں۔خیال رہے کہ ڈاک یارڈ پر حملے کے بعد القاعدہ جنوبی ایشیا نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس حملے کا مقصد ڈاک یارڈ پر حملہ نہیں بلکہ پاکستانی بحریہ کے جہازوں پر قبضہ اور امریکی و بھارتی بحریہ کو نشانہ بنانا تھا۔اس بیان میں نیوی کے سیکنڈ لیفٹیننٹ ذیشان رفیق اور اویس جکھرانی کی قبائلی علاقے میں تربیت کی تصاویر بھی دی گئی تھیں۔
واہگہ بارڈر پر حملے کے متعلق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مشترکہ تفتیشی رپورٹ ایک دو روز میں آجائیگی اور اس حوالے سے فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔وفاقی وزیر نے کراچی میں رینجرز کے کردار کی تعریف کی اور بتایا کہ کراچی میں آپریشن جاری رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ 14 ماہ میں رینجرز نے 4000 سے زائد سرچ آپریشنز کیے ہیں جن میں 7500 کے قریب گرفتاریاں کی گئی ہیں۔
چوہدری نثار نے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران دہشت گردی کی مصدقہ اطلاعات تھیں لیکن محرم کے دوران اہم گرفتاریاں ہوئیں جس میں رینجرز نے بنیادی کردار ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…