منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک میں ہرسال ایک لاکھ بچے نمونیا سے مر جاتے ہیں

datetime 11  ‬‮نومبر‬‮  2014 |
کراچی۔۔۔۔پاکستان پیڈیاٹرکس ایسوسی ایشن کے صدرپروفیسرڈاکٹراقبال میمن نے کہاہے کہ نمونیاکے مرض میں22لاکھ بیکٹیریاکے ساتھ وائرس بھی ہوتے ہیں،ملک میں ہرسال ایک لاکھ بچے نمونیاسے انتقال کرجاتے ہیں۔جن میں سے33فیصداموات سندھ میں ہوتی ہیں، پاکستان میں ہر4بچوں میں سے ایک نمونیا کا شکار ہوتا ہے، پاکستان میں سالانہ 45لاکھ بچوں میں سے 60 فیصد بچے مختلف بیماریوں کے باعث گھروں میں ہی دم توڑجاتے ہیں،اموات پر قابو پانے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانا ضروری ہے، جب بچہ کراہناشروع کرے تووالدین کوچاہیے فوری توجہ دیں،سانس لینے میں سیٹی کانکلنا، بچے کانڈھال ہونا، بخار،نزلہ کھانسی کے ساتھ جھٹکے لگنا اور پسلی چلنا شدید نمونیے کی علامات ہیں، نمونیا سے پیچیدگی کی صورت میں بچے کو گردن توڑ بخار بھی ہو سکتاہے ،نمونیاکی پہلی ویکسین بچے کی پیدائش کے پہلے6ہفتے دوسری 10اورتیسری 14ہفتے کرائی جاتی ہے۔جس کے بعدبچہ نمونیاکے مرض سے محفوظ ہوجاتا ہے ،پروفیسر اقبال میمن نے مزیدکہاکہ ترقی پذیرملکوں میں ہرسال 5سال سے کم عمر کے بچوں کے نمونیامیں مبتلا ہونے کے150ملین کیسزسامنے ا?تے ہیں جوپوری دنیامیں سامنے ا?نے والے کیسزکا 95فیصد سے بھی زیادہ ہیں، بعض صورتوں میں خسرہ اور کالی کھانسی جیسی بیماریاں پیچیدہ ہونے کے بعد نمونیا کا باعث بن سکتی ہیں،پروفیسر اقبال میمن نے مزیدکہا کہ ترقی پذیرملکوں میں ہرسال 5سال سے کم عمر کے بچوں کے نمونیامیں مبتلا ہونے کے150ملین کیسزسامنے ا?تے ہیں جوپوری دنیامیں سامنے ا?نے والے کیسزکا 95فیصد سے بھی زیادہ ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…