ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

اسامہ بن لادن کو پہلی گولی کس نے ماری تھی؟ برسوں کی بحث کےبعد پردہ اٹھ گیا

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

اسامہ بن لادن کی موت کیسے واقع ہوئی اور کس نے اسے مارا یہ سوالات ہمیشہ سے لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھے تاہم فوج سے ریٹائر ہونےوالے روب اونیل نے اپنے انٹریو میں اس راز بھی پردہ اٹھا دیا  ہے، روب اونیل اس فوجی ٹیم’’نیوی سیل‘‘کا حصہ تھا جس نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا اوراس کا تعلق امریکی نیوی فوج سے تھا۔ اپنے انٹر ویو میں اونیل نے اس بات کا انکشاف کیا کہ  اسامہ بن لادن کےسر میں 3 گولیاں ماریں جس کے بعد ٹیم میں شامل دوسرے دو فوجیوں نے ان کے سینے میں گولیاں ماریں جس سے اسامہ بن لادن موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

روب اونیل کو اس حقیقت سے پردہ اٹھانے پر سخت تنقید کانشانہ بنایا جا رہا ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ اس انکشاف کے بعد داعش اس کے تعاقب میں لگ جائے گی جب کہ روب اونیل کو اس خفیہ معلومات سے پردہ اٹھانے پر فوج سے حاصل ہونے والی کچھ مراعات سے بھی محروم ہونا پڑا جس میں سروس کے بعد 20 سال پورا ہونے کی بجائے وہ صرف 16 سال بعد ہی فارغ ہوگئے۔ ان کے انکشافات نے امریکا میں ان کی متنازعہ حیثیت پر بحث چھیڑ دی ہے تاہم ان کے وکیل کا کہنا ہےکہ یہ بیانات متنازعہ نہیں اور انہیں امید ہے کہ اس سلسلے میں جو بھی تحقیقات ہوں گی وہ ان کے حق میں ختم ہوں گی۔

روب اونیل نے 19 سال کی عمر میں امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی، وہ ایک سرگرم فوجی کی حیثیت سے کئی خدمات انجام دے چکے ہیں، اونیل عراق اور افغانستان سمیت چار وار زونز کا بھی حصہ بن چکے ہیں جس کے دوران انہوں نے 400 مشن میں شرکت کی۔ اونیل ان 23 میں سے 2 امریکی فوجی ہیں جنہوں نے اسامہ بن لادن پر حملہ کرنے والوں کی شناخت ظاہر کی،  اس سے قبل میتھیو بیسونیٹ نے اپنی کتاب ’’نو ایزی ڈے ان 2012‘‘میں اسامہ بن لادن پر حملے کی تفصیل لکھی تھی جس پر پینٹا گون اور دیگر فوجی اداروں نے سخت ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…