پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

“” دونوں میں تکرار ہوئی ثنا نے کہا غصہ نہیں کرو ،میں پانی لاتی ہوں، اس دوران تکرار زیادہ بڑھی تو ثنا نے کہا کہ گھر۔ ۔ ۔”مقتولہ ٹک ٹاکر کی پھوپھی نے اندر کی بات بتادی

datetime 3  جون‬‮  2025 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک )وفاقی دارالحکومت میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے میں نوجوان ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو اسی کے ایک سوشل میڈیا دوست نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ مقتولہ کا تعلق اپر چترال سے تھا جبکہ ملزم کی شناخت عمر حیات عرف “کاکا” کے نام سے ہوئی ہے، جو خود بھی ٹک ٹاک پر فعال تھا۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق، واردات کے بعد ملزم نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی آئی ڈی تبدیل کر لی تاکہ شناخت چھپائی جا سکے۔

پولیس نے اسے فیصل آباد سے گرفتار کر کے تحویل میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ واردات ایک منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھی، کیونکہ اس وقت گھر میں والدین اور بھائی موجود نہیں تھے۔ صرف مقتولہ کی پھوپھو دوسرے کمرے میں موجود تھیں۔پھوپھو نے پولیس کو دیے گئے ابتدائی بیان میں بتایا کہ ثنا اور ملزم کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی۔ ثنا نے اسے ٹھنڈا رہنے کا کہا اور پانی لانے کا ذکر کیا، ساتھ ہی یہ بھی یاد دلایا کہ گھر کے اندر اور باہر کیمرے نصب ہیں اور اگر کچھ غلط ہوا تو وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ تاہم، ملزم نے ان باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے گولی چلادی، جو ثنا کے جسم میں لگی اور وہ موقع پر شدید زخمی ہوگئی۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم چھت پر موجود فیملی کے حصے تک خود سیڑھیاں چڑھ کر پہنچا تھا۔ مقتولہ نے اسے جانے کا کہا لیکن اس نے انکار کیا اور بات مزید بگڑ گئی۔ فائرنگ کے بعد ملزم گھر سے نکلا اور گلی کے کونے تک دوڑتا ہوا گیا، جس سے شبہ ہوتا ہے کہ باہر پہلے سے کوئی گاڑی یا سواری اس کے انتظار میں تھی۔واقعے کے بعد ملزم موٹروے کے ذریعے کشمیر ہائی وے سے فیصل آباد پہنچا اور روپوش ہوگیا، تاہم پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی کی مدد سے اس کا سراغ لگا لیا۔ ملزم نے گرفتاری کے بعد ابتدائی بیان میں جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔مزید یہ کہ، پولیس نے بتایا کہ ثنا یوسف کے قتل کی ویڈیو سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو چکی ہے اور فوٹیج میں ملزم کو جائے واردات سے فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اب اسے اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے جہاں مزید تفتیش جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…