بالی ووڈ اسٹارزدپیکا اور شردھا کس چیز  سے متعلق واٹس ایپ گفتگو منظرعام پر آگئ

  جمعہ‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2020  |  20:52

یممبئی (این این آئی)بولی ووڈ اسٹارزدپیکا پڈوکون اور شردھا کپور کی ڈرگز سے متعلق مبینہ گفتگو سامنے آگئی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اداکاروں کی گفتگو نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی)کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔یہ واٹس ایپ گفتگو سال 2017 کی بتائی جاتی ہیںجو ڈرگز سے متعلق ہیں، جو ٹیلنٹ مینیجر جایا ساہا کے موبائل فون سے حاصل ہوئیں۔سشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کیس میں ڈرگز سے متعلق تحقیقات نے بولی ووڈ کو ہلا کر رکھ دیا۔چمکتے دمکتے بولی بوڈ کی کھوکھلی حقیقت آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہی ہے جس میں صف اول کی اسٹارز


دپیکا پڈوکون اور شردھا کپور کی ڈرگز سے متعلق مبینہ بات چیت سامنے آئی ہے۔اس مبینہ واٹس ایپ گفتگو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ اداکار رنویر سنگھ کی اہلیہ اپنے لیے ہشیش مانگ رہی ہیں۔واضح رہے کہ جایا سنگھ نے سشانت سنگھ راجپوت کے لیے بطور ٹیلنٹ منیجر کام کیا۔سشانت سنگھ راجپوت 14 جون کو ممبئی میں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے، جسے ابتدا میں پولیس نے خودکشی قرار دیا تھا، تاہم بعد میں اس سے متعلق مزید تحقیقات ہوئیں جو بولی ووڈ میں ڈرگز مافیا تک جاپہنچیں۔سشانت سنگھ کو ڈرگز کا عادی بنانے کے الزام میں ان کی سابقہ دوست اداکارہ ریا چکرورتی اور ان سے جڑے دیگر افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ملزمان سے ہونے والی تفتیش کے دوران ہوئے انکشافات کی روشنی میں اداکارہ سارہ علی خان، دپیکا پڈوکون اور شردھا کپور کو بھی اسی معاملے میں سوال و جواب کے لیے طلب کیا گیا۔تاہم اب ایک بھارتی نشریاتی ادارے نے ان اسٹارز کی ڈرگز سے متعلق مبینہ بات چیت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔دپیکا کے ساتھ ساتھ شردھا کپور کی بھی واٹس ایپ پر ڈرگز سے ہی متعلق گفتگو سامنے آئی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎