پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

عزیز میاں قوال کو مداحوں سے بچھڑے18 برس بیت گئے

datetime 6  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) اپنی قوالیوں کے ذریعے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کرنے والے شہرہ آفاق قوال عزیز میاں کو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے لیکن ان کی سحر انگیز قوالیاں آج بھی حاضرین پر وجد طاری کردیتی ہیں۔فن قوالی کی اصل روح کو دنیا کے سامنے جن قوالوں نے پیش کیا۔

ان میں عزیز میاں قوال کا نام نمایاں ہے۔ عزیز میاں قوال 17 اپریل 1942 کو نئی دلی میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے بعداہل خانہ کے ہمراہ لاہور میں سکونت اختیار کی۔ معروف قوال استاد عبدالوحید سے قوالی کے فن سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی اور اردو میں ایم اے کیا۔ ان کا نام عبدالعزیز تھا جب کہ ’’میاں‘‘ ان کا تکیہ کلام تھا جس کی وجہ سے وہ عزیز میاں کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کی گائی ہوئی قوالیوں میں ’’میں شرابی‘‘، ’’تیری صورت‘‘ اور ’’اللہ ہی جانے کون بشر ہے‘‘ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود آج بھی مقبول عام ہیں۔عزیز میاں نے وطن عزیزسمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پیش کرنے پر دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی۔ وہ اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے تھے جب کہ انہوں نے علامہ محمد اقبال اور قتیل شفائی کا کلام بھی انتہائی مہارت سے گایا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 1989 میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…