بدھ‬‮ ، 22 اپریل‬‮ 2026 

شوبز میں ریپ یا زبردستی نہیں بلکہ سب کچھ رضامندی سے ہوتا ہے : اداکارہ شلپا شندے

datetime 21  اکتوبر‬‮  2018 |

ممبئی(این این آئی)بھارت میں ان دنوں جہاں ‘می ٹو’ مہم اپنے عروج پر ہے، جس کے تحت کئی خواتین اور اداکارائیں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے واقعات سامنے لا رہی ہیں۔وہیں ٹی وی کی معروف اداکارہ شلپا شندے نے ایک حیران کن انکشاف کرکے سب کو حیران کردیا ہے۔بگ باس 11 کی فاتح 41 سالہ شلپا شندے نے بھی اگرچہ ایک سال قبل ایک ڈرامہ پروڈیوسر پرہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

تاہم اب وہ کہتی ہیں کہ شوبز میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی۔ بھارتی نشریاتی ادارے ‘ٹائمز ناؤ‘ سے خصوصی بات کے دوران شلپا شندے نے بولی وڈ میں جاری ‘می ٹو’ مہم پر کھل کر بات کرتے ہوئے ان اداکاراؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو طویل عرصے تک خاموش رہنے کے بعد اب اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔شلپا شندے کا کہنا تھا کہ یہ عمل بلکل غلط ہے کہ جب خواتین کوہراساں کیا گیا، تب وہ خاموش رہیں اور اب کافی دیر بعد بول رہی ہیں۔متنازع اداکارہ اور ڈانسر کا کہنا تھا کہ خواتین کو اپنے ساتھ نازیبا واقعات کے خلاف اس وقت ہی آواز اٹھانی چاہیے، جب وہ متاثر ہوں، جس طرح انہوں نے ایک سال قبل اس وقت آواز اٹھائی تھی جب انہیں پروڈیوسر نے ہراساں کیا، لیکن اب وہ ماضی کے قصے کو دوبارہ نہیں دہرا رہیں۔شلپا شندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں آنے والی نئی لڑکیوں کو جگہ بنانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے، تاہم وہ اس دوران یہ سمجھ نہیں پاتیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟شلپا شندے کے مطابق انہوں نے کئی ایسی نئی لڑکیوں کو انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں دیکھا ہے جو کیریئر کے آغاز میں انتہائی مختصر کپڑے پہن کر ڈائریکٹر و پروڈیوسرز کے پاس جاتی ہیں۔شلپا شندے نے دعویٰ کیا کہ بولی وڈ میں کوئی ‘ریپ‘ یا زبردستی نہیں ہوتی، تمام باتیں ایک سمجھوتے کے تحت ہوتی ہیں۔شلپا شندے کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں سمجھوتے کے تحت ‘کچھ لو اور کچھ دو’ کی بنیاد پر چیزیں ہوتی ہیں۔اداکارہ کے مطابق ریپ اورہراساں کے الزامات لگانے والی اداکاراؤں کو اس وقت آواز بلند کرنی چاہیے جب ان کے ساتھ نازیبا واقعہ ہو، بعد میں بات کرنے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کسی تنازع کو جنم دے رہی ہیں اور لوگ ان کا اعتبار بھی نہیں کریں گے۔شلپا شندے نے یہ اعتراف بھی کیا کہ شوبز انڈسٹری کوئی بہت ہی اچھی نہیں ہے، تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ اتنی بری بھی نہیں ہے، جتنا اس خراب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(تیسرا حصہ)


ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…