اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے
سائبر جرائم کی روک تھام اور خواتین سمیت کم عمر بچیوں کے تحفظ کے لیے اقدامات تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔لاہور میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سائبر جرائم کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ بالخصوص خواتین اور بچیوں کو انٹرنیٹ پر ہراساں کرنے اور بلیک میلنگ جیسے واقعات سے بچانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ بعض واقعات میں خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز حاصل کرکے انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے خواتین کو احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ذاتی تصاویر کسی نامعلوم شخص کے ساتھ شیئر کرنے سے گریز کریں۔ اگر کوئی شخص آن لائن بلیک میل کرکے رقم طلب کرے تو اسے پیسے نہ دیے جائیں بلکہ متعلقہ حکام کو اطلاع دی جائے۔محسن نقوی نے انکشاف کیا کہ وہ ان تین بچیوں سے بھی ملاقات کرچکے ہیں جنہوں نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔
ان کے مطابق بچیوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے کہا کہ سائبر جرائم سے نمٹنے والی پولیس کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ فورس کی استعداد بڑھانے اور اسے مضبوط بنانے پر بھی کام کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو آن لائن جرائم کی نوعیت، بلیک میلنگ سے محفوظ رہنے کے طریقوں اور شکایات درج کرانے کے عمل سے متعلق آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔وفاقی وزیر داخلہ کے مطابق حکومت کی توجہ سائبر جرائم کے خاتمے کے ساتھ متاثرہ افراد کے تحفظ اور ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی پر بھی مرکوز ہے۔ اس مقصد کے لیے عوامی آگاہی مہم چلانے اور متعلقہ اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے۔



















































