اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے تمام نجی اسکولوں اور کالجوں کے لیے عمارتوں کے منظور شدہ نقشے موجود ہونا لازمی قرار دے دیا ہے۔
اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے اپنے تعمیراتی نقشوں کی منظوری کی تصدیق کروائیں۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کو عمارت کے منظور شدہ نقشوں اور تعمیراتی اجازت ناموں کی نقول اسکول میں دستیاب رکھنا ہوں گی، تاکہ معائنے کے دوران انہیں پیش کیا جا سکے۔ مزید واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ مجاز ادارے کی اجازت کے بغیر نئی تعمیر، اضافی منزل یا عمارت میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی جا سکے گی۔
اتھارٹی نے اسکولوں کی چھتوں پر کیبن بنانے اور عارضی کلاس رومز قائم کرنے کے لیے بھی پیشگی منظوری حاصل کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن کو عمارت کے نقشے کی منظوری یا اس کی ساختی مضبوطی اور حفاظت کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔حکام کے مطابق جن عمارتوں کو غیرمحفوظ قرار دیا گیا ہے، وہاں تعلیمی سرگرمیاں اس وقت تک دوبارہ شروع نہیں کی جا سکیں گی جب تک تحریری طور پر حفاظتی کلیئرنس جاری نہ ہو جائے۔ اس ضمن میں نوٹیفکیشن کی نقول ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں۔



















































