منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

گھی، دودھ اور کوکنگ آئل کے معیار پر تشویشناک انکشافات

datetime 20  اگست‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)ملک میں فروخت ہونے والے گھی، کوکنگ آئل اور دودھ کی بڑی تعداد کے نمونے مقررہ معیار پر پورے نہ اترنے کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی قیمت نگرانی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق 48 فیصد ویجی ٹیبل گھی، 27.4 فیصد کوکنگ آئل، 75 فیصد ریفائنڈ پام اولیین، 25 فیصد مائع دودھ اور 44.5 فیصد ملک پائوڈر کے نمونے غیر معیاری قرار پائے۔رپورٹ کے مطابق 491 نمونے ملک کے مختلف علاقوں سے حاصل کرکے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ بعض گھی کے نمونوں میں ٹرانس فیٹ کی مقدار انتہائی تشویشناک حد تک زیادہ پائی گئی، جو مقررہ حد 2 گرام فی 100 گرام کے مقابلے میں 15.87 گرام فی 100 گرام تک ریکارڈ ہوئی۔ گھی کے متعدد نمونوں میں وٹامن اے کی کمی، زائد پیرو آکسائیڈ ویلیو اور فری فیٹی ایسڈز بھی پائے گئے۔

کوکنگ آئل کے نمونوں میں بھی وٹامن اے کی کمی، زائد پیرو آکسائیڈ ویلیو، فری فیٹی ایسڈز اور تیزابیت سمیت دیگر خامیاں سامنے آئیں۔ صوبائی سطح پر سندھ میں غیر معیاری گھی اور کوکنگ آئل کی شرح سب سے زیادہ رہی، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا ہ میں بھی بڑی تعداد میں نمونے مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔دودھ کے معیار سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ غیر معیاری پیک شدہ مائع دودھ کے تمام 26 نمونوں میں دودھ کی چکنائی مقررہ معیار سے کم تھی، جبکہ غیر معیاری ملک پاڈر کے تمام 8 نمونوں میں پروٹین کی مقدار مطلوبہ حد سے کم پائی گئی۔ خیبر پختونخوا ہ سے حاصل کیے گئے تمام پیک شدہ مائع دودھ کے نمونے بھی غیر معیاری قرار دئیے گئے۔

ویب سائٹ کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے معیار اور عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان مربوط نظام، باقاعدہ سائنسی ٹیسٹنگ اور سخت کارروائی ضروری ہے۔ احسن اقبال نے ہدایت کی کہ غیر معیاری مصنوعات تیار کرنے والے مینوفیکچررز کے خلاف کارروائی کی جائے اور خوراک کے معیار کی سہ ماہی بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…