جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ایف بی آر نے مالی سال 2026-27 کا ودہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ جاری کر دیا

datetime 13  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)ایف بی آر نے رواں مالی سال 2026-27ء کیلئے مختلف شعبوں، ادائیگیوں اور لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں پر مشتمل ودہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ جاری کر دیا ۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری ودہولڈنگ انکم ٹیکس ریٹ کارڈ کو 30 جون 2026ء تک فنانس ایکٹ 2026ء کے مطابق اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ریٹ کارڈ میں مختلف شعبوں، ادائیگیوں اور لین دین پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں درج کی گئی ہیں جن میں درآمدات، تنخواہ، منافع، غیر مقیم افراد کو ادائیگی، اشیا، خدمات اور معاہدوں کی ادائیگی، برآمدات، کرایہ، انعامات، پیٹرولیم مصنوعات، نقد رقم نکلوانے، موٹر گاڑیوں، بجلی، ٹیلی فون و انٹرنیٹ، غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت اور دیگر معاملات شامل ہیں۔ریٹ کارڈ کے مطابق قابلِ ٹیکس آمدن 6 لاکھ روپے تک ہونے کی صورت میں تنخواہ پر ٹیکس کی شرح صفر ہے، جبکہ 6 لاکھ روپے سے زیادہ اور 12 لاکھ روپے تک آمدن پر 6 لاکھ روپے سے زائد رقم پر ایک فیصد ٹیکس عائد ہوگا،اسی طرح 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک آمدن پر 6 ہزار روپے کے علاوہ 12 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 11 فیصد، 22 لاکھ سے 32لاکھ روپے تک 1 لاکھ 16 ہزار روپے کے علاوہ 22 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 20 فیصد، 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے تک 3 لاکھ 16 ہزار روپے کے علاوہ 32 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 25 فیصد، 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک 5 لاکھ 41 ہزار روپے کے علاوہ 41 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 29 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ریٹ کارڈ کے مطابق 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک 9 لاکھ 76 ہزار روپے کے علاوہ 56 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 32فیصد جبکہ 70لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے کے علاوہ 70 لاکھ روپے سے زائد رقم پر 35 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ریٹ کارڈ میں درآمدی اشیا کے لیے بھی مختلف شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ پارٹ ون، ٹو اور تھری، ٹوئلوتھ شیڈول میں شامل اشیا کے لیے اے ٹی ایل اور نان اے ٹی ایل افراد کے لیے بالترتیب مختلف شرحیں رکھی گئی ہیں، جبکہ کمرشل امپورٹرز، فارما مصنوعات، الیکٹرک وہیکلز کی سی کے ڈی کٹس اور موبائل فونز کیلئے بھی الگ شرحیں درج ہیں۔دستاویز کے مطابق بینک یا مالیاتی ادارے کے اکاونٹ یا ڈپازٹ پر ادا کیے جانے والے منافع پر اے ٹی ایل افراد کیلئے 20فیصد اور نان اے ٹی ایل افراد کیلئے 40فیصد ودہولڈنگ ٹیکس مقرر ہے، جبکہ بعض دیگر صورتوں میں منافع پر شرح 15فیصد اور 30فیصد ہے۔سکوک پر منافع کی مختلف صورتوں کیلئے بھی الگ الگ شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ غیر مقیم افراد کو ادائیگیوں کے حوالے سے مختلف ذیلی شقوں کے تحت 5 فیصد سے 20 فیصد تک شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی فراہمی پر اے ٹی ایل افراد کے لیے 4 فیصد اور نان اے ٹی ایل افراد کیلئے 8فیصد شرح مقرر ہے جبکہ دیگر خدمات کے لیے الگ شرحیں لاگو ہوں گی۔اشیا، خدمات اور معاہدوں کی ادائیگی پر بھی مختلف شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ چاول، کپاس کے بیج یا خوردنی تیل کی فروخت پر اے ٹی ایل کے لیے 1.50 فیصد اور نان اے ٹی ایل کے لیے 3 فیصد، بعض کمپنیوں کے ٹول مینو فیکچرنگ معاملات میں 9 اور 18 فیصد جبکہ دیگر کمپنیوں کے لیے 5 اور 10 فیصد کی شرحیں درج ہیں۔

آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات پر 4اور 8فیصد جبکہ بعض آزاد پیشہ ورانہ خدمات پر مجموعی قابلِ ادائیگی رقم کا 15اور 30فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ریٹ کارڈ میں ای کامرس پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر آرڈر کی جانے والی اشیا یا خدمات کی ادائیگی پر ڈیجیٹل یا بینکنگ ذرائع سے ادائیگی کی صورت میں اے ٹی ایل کیلئے ایک فیصد اور نان اے ٹی ایل کیلئے 2فیصد، جبکہ کیش آن ڈلیوری کی صورت میں بالترتیب 2اور 4فیصد ودہولڈنگ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔برآمدات پر 1.25فیصد جبکہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ میں رجسٹرڈ افراد کی کمپیوٹر سافٹ ویئر، آئی ٹی یا آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدی آمدن پر 0.25فیصد شرح درج ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ڈیجیٹل مواد تخلیق کرنے والوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو حاصل ہونے والی آمدن پر اے ٹی ایل افراد کیلئے 5فیصد اور نان اے ٹی ایل افراد کیلئے 10فیصد ودہولڈنگ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کے کرائے، انعامات و جیت، پیٹرولیم مصنوعات اور نقد رقم نکلوانے سمیت دیگر معاملات کیلئے بھی ریٹ کارڈ میں متعلقہ شرحیں درج کی گئی ہیں۔موٹر گاڑیوں کے حوالے سے انجن کی گنجائش کے مطابق مختلف شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔ 850سی سی تک گاڑیوں پر اے ٹی ایل کیلئے 0.50فیصد اور نان اے ٹی ایل کیلئے 1.50فیصد، جبکہ 3000سی سی سے زائد گاڑیوں پر بالترتیب 12 اور 36 فیصد شرح مقرر ہے۔ مختلف انجن گنجائش کی گاڑیوں کے لیے مقررہ رقم کی شرحیں بھی ریٹ کارڈ میں درج کی گئی ہیں۔بجلی کے تجارتی اور صنعتی صارفین کیلئے 500روپے تک کے بل پر ٹیکس صفر ہے، 500سے 20ہزار روپے تک کے بل پر 10فیصد جبکہ 20ہزار روپے سے زائد بل پر کمرشل صارفین کیلئے 1,950روپے کے علاوہ 20ہزار روپے سے زائد رقم پر 12فیصد اور صنعتی صارفین کیلئے 1,950روپے کے علاوہ 20ہزار روپے سے زائد رقم پر 5فیصد شرح مقرر کی گئی ہے۔نان اے ٹی ایل گھریلو صارفین کے 25 ہزار روپے سے کم ماہانہ بل پر ٹیکس صفر جبکہ 25ہزار روپے یا اس سے زائد بل پر 7.50فیصد شرح مقرر ہے۔

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے بھی ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں ٹیلی فون کے ایک ہزار روپے سے زائد ماہانہ بل کی زائد رقم پر 10فیصد جبکہ انٹرنیٹ، موبائل ٹیلی فون اور پری پیڈ انٹرنیٹ یا ٹیلی فون کارڈ کی صورت میں بل یا فروخت کی قیمت پر 15فیصد شرح شامل ہے۔غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی پر اے ٹی ایل کیلئے 2.75فیصد اور نان اے ٹی ایل کیلئے 11.50فیصد شرح درج ہے۔ ریٹ کارڈ میں ڈسٹری بیوٹرز، ڈیلرز اور ہول سیلرز کو فروخت، ریٹیلرز کو فروخت، غیر منقولہ جائیداد کی خریداری، بیرون ملک رقم بھیجنے اور کمپنیوں کی جانب سے بونس شیئرز کے اجرا سمیت دیگر معاملات کے لیے بھی ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ریٹ کارڈ ٹیکس دہندگان، ودہولڈنگ ایجنٹس اور دیگر متعلقہ افراد کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم کسی تضاد یا غلطی کی صورت میں ترمیم شدہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001اصل قانون تصور ہوگا اور یہ کارڈ عدالت یا قانونی فورم کے سامنے قانونی دستاویز یا کسی قانونی کارروائی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…