منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کسٹمز کے ہاتھوں پکڑی گئی 400 کلو خالص چاندی سیسے میں تبدیل کرنے کا مقدمہ درج

datetime 11  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کوئٹہ میں کسٹمز کی تحویل میں موجود قیمتی دھات میں مبینہ خوردبرد اور چاندی کو سیسے سے تبدیل کیے جانے کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

کیس میں سابق کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی سمیت 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کوئٹہ کے مطابق کسٹمز انفورسمنٹ کی تحویل میں تقریباً 698 کلوگرام چاندی موجود تھی، جس میں سے قریب 400 کلوگرام خالص چاندی کو مبینہ طور پر سیسے سے تبدیل کرنے اور سرکاری مال میں بے ضابطگی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔مقدمہ 5 جون 2026 کو ایف آئی آر نمبر ACC-QTA-39/26 کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں سابق کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی کے علاوہ دیگر سرکاری افسران، نجی افراد اور نامعلوم ملزمان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر تبدیل کی گئی چاندی کی مالیت 5 اپریل 2026 کو تقریباً 32 کروڑ روپے بنتی تھی۔ مقدمہ اسسٹنٹ کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ شہریار وسیم کی تحریری شکایت پر انکوائری نمبر 93/2026 مکمل ہونے کے بعد درج کیا گیا۔ اس انکوائری کے لیے شکایت چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد کے دفتر سے ارسال ہوئی تھی، جبکہ ایف بی آر کے سیکریٹری انفورسمنٹ کی جانب سے بھی مقدمہ درج کرنے کی منظوری دی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق ستمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ نے 21 مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر تقریباً 697.925 کلوگرام چاندی ضبط کی تھی۔ ان مقدمات پر متعلقہ ایڈجوڈیکیٹنگ افسران کی جانب سے حتمی فیصلے ابھی نہیں ہوئے تھے، اس لیے ضبط شدہ چاندی کو فروخت یا تلف کرنے کا قانونی مرحلہ بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔دستاویز کے مطابق اس صورتحال میں ضبط شدہ چاندی کو CGO-12/2002 کے تحت ڈسپوزل کے لیے پاکستان منٹ لاہور منتقل کرنا قبل از وقت تھا۔ ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس وقت کے کلیکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کوئٹہ کرم الٰہی نے ماتحت افسران کی تحریری رائے کے برخلاف چاندی پاکستان منٹ لاہور بھجوانے پر اصرار کیا۔19 فروری 2026 کو اسٹیٹ ویئر ہاؤس کے انچارج انسپکٹر محمد زمان مزاری نے فائل پر تحریری نوٹ میں نشاندہی کی کہ 11 مقدمات میں 308,975.1 گرام چاندی جبکہ پانچ کیسز میں 4,775.34 گرام سونا مختلف قانونی فورمز پر زیرِ سماعت تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ حتمی فیصلے تک ضبط شدہ اشیا کو متعلقہ قواعد کے مطابق محفوظ تحویل میں رکھا جائے۔ اس تجویز کی ڈپٹی کلیکٹر طارق حسین اور ایڈیشنل کلیکٹر یوسف علی مگسی نے بھی اسی روز توثیق کی۔تاہم ایف آئی آر میں الزام ہے کہ کلیکٹر کرم الٰہی نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے چاندی کو پاکستان منٹ منتقل کرنے کے حوالے سے سوال اٹھایا اور مؤقف اختیار کیا کہ اگر بعد میں محکمہ کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو رقم واپس کی جاسکتی ہے۔10 مارچ 2026 کو اسٹیٹ ویئر ہاؤس کے انچارج پریونٹیو آفیسر یاسر عرفات نے تقریباً 705,622.1 گرام ضبط شدہ چاندی کے 22 مقدمات پاکستان منٹ لاہور بھیجنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم ان کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ تمام کیسز ابھی ایڈجوڈیکیشن کے مرحلے میں ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ایف آئی آر کے مطابق متعلقہ افسران نے یہ وضاحت بھی طلب کی کہ ضبط شدہ قیمتی دھات کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں محفوظ رکھا جائے یا پاکستان منٹ منتقل کیا جائے، تاہم فائل پر کوئی واضح تحریری ہدایت جاری نہیں کی گئی۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2 مارچ کو ایڈیشنل کلیکٹر یوسف مگسی کو کلیکٹر کرم الٰہی کی جانب سے واٹس ایپ پیغام موصول ہوا، جس میں سونے اور چاندی کا مکمل ریکارڈ تیار کرکے اسے پاکستان منٹ میں جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ اگلے روز ایک اور پیغام میں زیرِ التوا مقدمات کو مارچ کے دوران نمٹانے اور قیمتی دھات کو منٹ منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ایف آئی اے کے مطابق ان پیغامات سے بظاہر ظاہر ہوتا ہے کہ کلیکٹر کو مقدمات کے زیرِ سماعت ہونے کا علم تھا، اس کے باوجود چاندی پاکستان منٹ بھیجنے کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔10 مارچ کو پاکستان منٹ لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کے نام ایک خط بھی تیار کیا گیا، جس میں کسٹمز کوئٹہ کی جانب سے ضبط کی گئی 575,975.1 گرام چاندی کو ڈسپوزل کے لیے بھیجنے کا ذکر تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق بعد ازاں مسودے میں تبدیلی کرتے ہوئے چاندی کا وزن 446 کلوگرام درج کیا گیا اور اسے ضبط شدہ مال ظاہر کیا گیا۔ایف آئی اے نے مقدمے میں نامزد افراد کے خلاف الزامات کی بنیاد پر مزید تفتیش شروع کردی ہے جبکہ کیس میں چاندی کی مبینہ تبدیلی، ریکارڈ میں ردوبدل اور سرکاری مال سے متعلق دیگر معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…