اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس نیٹ، بجلی، گیس، پٹرولیم قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 9  مئی‬‮  2026 |

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کیا جائے اور معاشی اصلاحات کے عمل کو تیز کیا جائے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حقیقی لاگت کے مطابق رکھی جائیں، جبکہ سرکاری اداروں کی نجکاری اور ان میں اصلاحات کے عمل کو بھی جلد مکمل کیا جائے۔

ادارے نے سماجی شعبوں خصوصاً تعلیم، صحت اور سماجی تحفظ پر اخراجات بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جاری اصلاحاتی اقدامات کو برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے جاری کردہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی سہولت (RSF) کے تحت 1.4 ارب ڈالر پروگرام میں سے 22 کروڑ ڈالر کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ مجموعی طور پر 1.32 ارب ڈالر کی منظوری بھی سامنے آئی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود پاکستان نے کئی معاشی اہداف حاصل کیے اور ملکی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کو کاروباری سرگرمیوں میں مقابلے کی فضا پیدا کرنا ہوگی تاکہ صنعتی اور پیداواری شعبہ مضبوط ہو سکے۔

ادارے نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہ سکتی ہے جبکہ مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔

اعلامیے کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا کہ مجموعی قرضہ ملکی معیشت کے 73.8 فیصد کے برابر رہ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کو بروقت اور مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنا ضروری ہے، جبکہ قیمتوں اور اجرتوں پر ممکنہ دباؤ کی مسلسل نگرانی بھی جاری رکھی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…