اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،
جس کے تحت فی بیرل ایک ڈالر فیس وصول کی جائے گی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پیٹرولیم ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حامد حسینی نے بتایا کہ اس ٹول ٹیکس کی وصولی کرپٹو کرنسی کے ذریعے کی جائے گی۔ ان کے مطابق ایران ہر اس جہاز کی جانچ پڑتال کرنا چاہتا ہے جو آبنائے ہرمز سے گزرے، تاکہ اس کی نقل و حرکت اور سامان کی نوعیت پر نظر رکھی جا سکے۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر ان دنوں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی قسم کی اسلحے کی ترسیل نہ ہو۔ ان کے مطابق ہر جہاز کو اپنے کارگو کی مکمل تفصیلات ای میل کے ذریعے ایرانی حکام کو فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد فیس سے متعلق آگاہ کیا جائے گا۔حامد حسینی کا کہنا تھا کہ تیل سے بھرے جہازوں پر فی بیرل ایک ڈالر کے حساب سے فیس عائد ہوگی، جبکہ خالی جہازوں کو بغیر کسی چارج کے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ مزید یہ کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد جہازوں کو فوری طور پر بٹ کوائن کے ذریعے ادائیگی کرنا ہوگی۔رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے تناظر میں ایران اور عمان دونوں اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر محصولات عائد کریں گے۔
ایران ان آمدنی کو تعمیر نو کے کاموں پر خرچ کرے گا، جبکہ عمان کے منصوبوں سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کرتی ہے۔ ادھر خلیج میں موجود جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ بغیر اجازت گزرنے کی صورت میں سخت کارروائی کی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ ایسے جہازوں کو نشانہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔



















































