بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا بڑا فیصلہ بھارت سے چینی اور روئی منگوانے کی منظوری

datetime 31  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد، کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نجی شعبے کو بھارت سے چینی درآمد کرنے کی منظوری دے دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر کی سربراہی میںای سی سی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ای سی سی نے 30جون2021تک بھارت سے کاٹن یارن کی درآمد کی منظوری کے ساتھ ساتھ وزارتوں کی

تکینکی ضمنی گرانٹس کی بھی منظوری دے د ی ہے۔ اب باقاعدہ حتمی منظوری کے لئے وفاقی کابینہ سے رجوع ہوگا ، درآمد کی اجازت ملنے سے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات جزوی بحال ہوسکیں گے ، پاکستان مئی 2020 ء میں ہندوستان سے ادویات اور خام مال کی درآمد سے پابندی ختم کرچکا ہے ، فیصلہ کورونا وبائی امراض کے دوران ضروری دوائیوں کی دستیابی یقینی بنانے کیلئے کیا گیا تھا۔دوسری جانب عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں معاشی بڑھوتری کے فوری امکانات نہیں ہیں تاہم قرضوں کا حجم زیادہ اور شرح نمو کم رہے گی۔ اپنی سالانہ سائوتھ ایشیاء اکنامک فوکس رپورٹ میں عالمی بینک نے کہا کہ پاکستان کے قرضوں کا گراف بلند رہے گا، رپورٹ میں کہا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے ٹیکس محصولات کو دگنا کر کے قرضوں کو کم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔پانچ چیئرمین ایف بی آر اور تین وزرائے خزانہ کو تبدیل کرنے کے باوجود وہ ان دو اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں،بینک نے پاکستان کی معاشی

بحالی کو بدستور نازک صورتحال سے دوچار قرار دیا ہے اور غربت میں اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے، یہ رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنے دوسرے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو ہٹائے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔عالمی بینک نے آئندہ مالی سال

کے لئے صرف دو فیصد معاشی نمو کی پیش گوئی کی ہے ، جو حکومت کے چوتھے سال کے دوران حکومتی ہدف سے نصف ہے۔رپورٹ کے مطابق مالی سال21 ۔ 2020 کے دوران اوسط شرح اوسطاً 2.2 فیصد ہوجائے گی، 23۔ 2022 میں زیادہ تر نجی کھپت کی وجہ سے شرح نمو میں اضافے کی توقع ہے،بینک نے رواں مالی سال کے لئے پاکستان میں افراط زر کی شرح 9 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے،تاہم آئندہ مالی سال میں یہ شرح کم ہوکر 7 فیصد ہوجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…