ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت انٹرنیشنل سیونگ سکیم کے ذریعے کتنے ارب ڈالر کما سکتی ہے؟ حیرت انگیز مشورہ دیدیا گیا

datetime 8  جنوری‬‮  2021 |

لاہور( این این آئی )پاکستان ٹیکس ایڈوائزر ایسوسی ایشن نے حکومت کو انٹرنیشنل سیونگ سکیم متعارف کرانے کی تجویز دیتے ہوئے کہاہے اس اقدام کی کامیابی سے حکومت25ارب ڈالرتک کماسکتی ہے ، اس سکیم کے تحت بانڈزڈالرزکے عوض فروخت کئے جائیں تاہم انعامی رقم کو پاکستانی کرنسی میں فراہم کیا جائے ۔ان خیالات کا

اظہارمقررین نے پاکستانی معیشت کی بہتری کے حوالے سے منعقدہ مذاکرے میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پاکستان ٹیکس بار ایڈوائزر ایسوسی ایشن کے چیئر مین جاوید اقبال قاضی، صدر میاں عبدالغفار ،جنرل سیکرٹری خواجہ ریاض حسین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔خواجہ ریاض حسین نے کہا کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت مہنگائی کا سبب ہے جس کے لئے حکومت کو نیشنل سیونگ سکیم کے ساتھ انٹرنیشنل سیونگ اسکیم کااجراء کرنا چاہیے جو صرف غیر ملکیوں کیلئے مفید ہو ، اس کا طریق کار نیشنل سیونگ اسکیم کی طرح رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ 250ڈالر کے انعامی بانڈزپر انعام 5لاکھ ڈالر،500ڈالر پر 20لاکھ ڈالر اور ایک ہزار ڈالر پر 40لاکھ ڈالر انعام رکھا جائے، اس سیونگ سکیم میںنہ صرف اوور سیز پاکستانی بلکہ غیر ملکی سرکایہ کار بھی دلچسپی ظاہرکریں گیاور حکومت کامیابی کی صورت مین کم از کم 25ارب ڈالر کما سکتی ہے، شرط صرف یہ رکھی جائے کہ انعامی بانڈ ڈالر میں لیا جائے اور انعام پاکستانی کرنسی میں دیا جائے۔ اگر حکومت نیشنل سیونگ اسکیم سے 1300ارب سے زائد روپے اکٹھے کر سکتی ہے تو انٹرنیشنل سیونگ سکیم سے حکومت کی سوچ سے زیادہ اکٹھے ہو سکتے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان پر غیر ملکی اعتماد کا اظہار کرتے ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے بین الاقوامی بچت اسکیم کا اعلان کیا جائے،جہاں پاکستان میں ڈالر کی برسات ہو گی وہاں ایکسپورٹ بھی چار گناہ بڑھ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…