اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پاکستان سے منتقل ہونیوالے کاون ہاتھی کی زندگی میں بھی تبدیلی،ساتھی مل گیا

datetime 25  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) پاکستان سے کمبوڈیا منتقل کیا جانے والا کاون ہاتھی کو زندگی گزارنے کیلئے ایک ساتھی مل گئی ۔ تفصیلات کے مطابق کمبوڈیا سینکچوری کے نگراں نے بتایا ہے کہ کاون ہاتھی نے ایک ہتھنی میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نئے ماحول میں کاون ہاتھی کی سماجی زندگی میں آہستہ آہستہ بہترین آتی جارہی ہے ۔

کمبوڈیاکے وزیرِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ کاون کمبوڈیا میں کئی بچوں کا باپ بن سکے گا۔قبل ازیں عدالتی حکم پر پاکستان سے کمبوڈیا منتقل کیے جانے والا کاون ہاتھی نے اپنے نئے گھر میں نئی زندگی کا آغاز کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کمبوڈیا انتظامیہ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کاون ہاتھی اپنے نئےدوست کے ساتھ سونڈھ کے ذریعے سلام دعا کر رہا ہے۔35 سالہ کاون ہاتھی پاکستان کے شہر اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں 34 سال تنہا رہا ہے، اس تنہائی کے سبب  ہی کاون ہاتھی کو دنیا بھر میں ’دنیا کا تنہا ترین ہاتھی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔کاون ہاتھی 1984ء میں سری لنکا میں پیدا ہوا تھا، 1985ء میں جب کاون صرف ایک سال کا تھا سری لنکا حکومت کی جانب سے کاون کو بطور تحفہ پاکستان کو دے دیا گیا تھا۔کاون ہاتھی کافی عرصہ اکیلا رہا جبکہ 1990ء میں بنگلہ دیش کی جانب سے ایک ہتھنی پاکستان کو تحفے میں دی گئی جسے ’سہیلی‘ کا نام دیا گیا تھا، کاون کی طرح سہیلی بھی سری لنکا میں 1989ء میں پیدا ہوئی تھی۔2012ء میں ہتھنی سہیلی کی طبی وجوہات کی بنا پر موت واقع ہو گئی تھی جس کے بعد کاون ایک بار پھر اکیلا ہو گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…