اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اس چیز کی کمی سے ملک کو 10 ارب ڈالر کا نقصان ہو گا، انتہائی تشویشناک بات سامنے آ گئی

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں کمی سے ملک کو کم از کم دس ارب ڈالر کا نقصان ہو گا۔کپاس کی حقیقی پیداوار ایک کروڑ پچاس لاکھ گانٹھ کے ہدف کے مقابلہ میں صرف پچاس لاکھ گانٹھ ہے جو

ضرورت سے بہت کم ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صنعتی شعبہ ٹیکسٹائل کو رواں رکھنے کے لئے کم از کم دس ارب ڈالر کی کپاس درامد کرنا ہو گی جبکہ مہنگی کپاس سے پیداوار مہنگی اور برامدات بھی متاثر ہونگی۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت کو رواں رکھنے کے لئے کپاس کی درامد پر عائد تمام ٹیکس اور ڈیوٹیاں ختم کی جائیں اور مقامی پیداوار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔انھوں نے کہا کہ ملک میں شوگر ملز ضرورت سے زیادہ ہیں اس لئے نئی شوگر ملوں کے لائسنس جاری نہ کئے جائیں کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں کمی اور اسکے بجائے گنا کاشت کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس سے قبل توانائی کی عالمی مارکیٹ مستحکم تھی تاہم اب ڈیمانڈ کی کمی کی وجہ سے یہ شعبہ بحران کا شکار ہے جسکی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتیں بہت کم ہیں مگر اب بھی سابقہ حکومت کے مقابلہ میں مہنگی گیس خریدی جا رہی ہے جس سے صنعتی شعبہ متاثر ہو گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…