پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی بیس بڑی معیشتوں پر مشتمل گروپ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے میدان میں آگیا ، مدد کا اعلان کر دیا

datetime 27  مارچ‬‮  2020 |

ریاض (این این آئی)دنیا کی بیس بڑی معیشتوں پر مشتمل گروپ کے لیڈروں نے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی مہلک وبا اور اس کے صحت، سماج اور معیشت پر اثرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس مہلک وائرس پر قابو پانے کے لیے اقدامات ان کی اولین ترجیح ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جی 20 کے لیڈروں نے ورچوئل ہنگامی اجلاس منعقد کیا

اور اس میں کرونا وائرس سے دنیا بھر میں پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا ۔اس سربراہ اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اس وبا اور صحت کے ڈیٹا کا رکن ممالک میںتبادلہ کیا جائے گا،عالمی سطح پر صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جائے گا،میڈیکل آلات اور ادویہ کی تیاری کی صلاحیت کو وسعت دی جائے گی۔ان لیڈروں نے کہا کہ وہ عالمی سپلائی میں تعطل کو دور کرنے اور اس کی بحالی کے اقدامات کے لیے پرعزم ہیں۔انھوں نے اپنے اپنے وزرائے خزانہ اور مرکزی بنک کے گورنروں سے کہا کہ وہ اس مہلک وبا کی روک تھام کے لیے باہمی رابطے کے ذریعے لائحہ عمل ترتیب دیں اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی تنظیموں سے بھی رابطے میں رہیں۔بیان کے مطابق عالمی لیڈروں نے کہا کہ ہم پچاس کھرب ڈالر ( پانچ ٹریلین) عالمی معیشت میں داخل کررہے ہیں۔یہ بھاری رقوم مالیاتی پالیسی ، اقتصادی اقدامات اور اس مہلک وبا کے سماجی ، اقتصادی اور مالیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے ضمانتی اسکیموں پر صرف کی جائیں گی۔جی 20 کے لیڈروں نے اس مہلک وائرس کے ترقی پذیر اور کم ترقی یافتہ ممالک بالخصوص افریقا اور چھوٹے چھوٹے جزائر پر مشتمل ریاستوں پر اثرات کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مہاجرین اور بے گھر افراد بالخصوص زیادہ خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…