پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ریلوے افسران نے سرکاری رہائشگاہوںسے ملحقہ سرونٹ کوارٹرز میں بجلی اور گیس کے اپنے ٹیرف متعارف کرا دئیے،ہزاروں روپے وصولی

datetime 16  فروری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی)ریلوے کے متعدد اعلیٰ افسران نے سرکاری رہائشگاہوں سے ملحقہ سرونٹ کوارٹرز میںرہائش رکھنے والوں کیلئے بجلی اور گیس کے اپنے ٹیرف متعارف کرا دئیے ،بلوں کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں کنکشنز منقطع کر دئیے جاتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے کی جانب سے اپنے افسران کو میو گارڈن سمیت مختلف مقامات پر کئی کئی کنال کی رہائشگاہیں دی گئی ہیں ۔

ان رہائشگاہ کے ساتھ افسران کے گریڈ کی مناسبت سے سرونٹ کوارٹرز بھی قائم ہیں جو ان افسران کی جانب سے پرائیویٹ لوگوں کو کرائے اور گھریلو کام پر دئیے گئے ہیں۔ سرکاری افسران کی رہائشگاہوں سے ملحقہ کوارٹرز میں کام کرنے والوں کیلئے کوئی اصول او رضابطہ طے نہیں ۔ ذرائع کے مطابق بعض افسران ایسے بھی ہیں جو گھریلو کام کے ساتھ کرایہ بھی وصول کرتے ہیں ۔ افسران کی جانب سے سرونٹ کوارٹرز کو اپنی رہائشگاہوں سے بجلی اور گیس کے کنکشن دئیے گئے ہیں اور سب میٹرز کے ذریعے ان سے بلوں کی وصولی کی جاتی ہے ۔ ذرائع کے مطابق بعض افسران نے اپنے مرضی کے ٹیرف متعارف کرارکھے ہیں جن کے بلوں ہزاروں میں بنتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سردی کی شدت کی وجہ سے زیادہ استعمال کے باعث کئی کنال پر پھیلے گھروں کو ہزاروں روپے کے بل آئے تاہم افسران نے اس کا بوجھ ایک سے ڈیڑھ مرلے کے کوارٹروں پر منتقل کر دیا اور ایک گھر سے دو سے چار ہزار روپے تک کا بل چارج کیا گیا جبکہ غریب افراد جو بلوں کی ادائیگی نہ کر سکے ان کے کنکشنز منقطع کر دئیے گئے ۔ کوارٹروں میں رہائش رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ سردیوں میں گیس اور گرمیوں میں بجلی کے ہزاروں روپے کے بل ادا کرنا پڑتے ہیں اور ادائیگی نہ کرنے سکنے کی صورت میں کنکشن منقطع کر دیا جاتا ہے یا گھر خالی کر الیا جاتا ہے ۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ ان کوارٹرزکے حوالے سے کوئی پالیسی لائی جائے جس سے ریلوے کو فائدہ ہوگا۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…