پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

یو ٹیلیٹی اسٹورز پر چینی نا یا ب، 805روپے میں ملنے والا 20کلو آٹے کا تھیلابھی غیر معیاری ،عوام عام مارکیٹ سےمہنگی اشیا خریدنے پر مجبور

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

فیصل آباد (آن لائن)یو ٹیلیٹی اسٹورز پر چینی دستیاب نہیں ، اوپن مارکیٹ میں چینی کی 85روپے فی کلو ہوگئی ،جبکہ آٹے کا معیار ٹھیک نہ ہونے کیساتھ ستر فیصد تک اشیائے خورونوش بھی دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت عام مارکیٹ سے مہنگے داموں اشیائے خوردونوش خریدنے پر مجبور ہو گئی ۔

ضلعی انتظامیہ منصوعی مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ،فیصل آباد آٹے کے چار طرح کے ریٹ چکیوں پر آٹا 45سے 65روپے فی کلو۔ آن لائن کے مطابق شہر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر گزشتہ کئی روز سے 68 روپے کلو والی چینی دستیاب نہیں تاہم 805 روپے کے حساب سے دستیاب 20 کلو کے سرخ آٹے کا معیار بھی ٹھیک نہیں جبکہ رہی سہی کسر اشیائے خورونوش کی نایابی اور عام مارکیٹ کے برابر قیمتوں نے پوری کر دی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت یوٹیلیٹی اسٹورز پر سستی اشیائے خوردونوش کی تلاش میں خوار ہو رہی ہے۔ جبکہ اوپن میں مارکیٹ میں چینی 85روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے، آٹے ریٹ بھی شہر بھر مختلف ہیں جن چکیوں سرکاری گندم ملی رہے وہ آٹا 45روپے جن کو گند م نہیں ملی رہے وہ آٹا 60سے 65روپے کلو کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں ضلعی انتظامیہ منصوعی مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئی ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 6 ارب روپے کا خصوصی پیکج دیا لیکن گھی، چینی اور دالوں کی قیمتوں میں اضافے سے مسائل آنے پر اشیائے خورونوش کی دستیابی مشکل ہو گئی ہے تاہم شہریوں کو سستا آٹا اور بنیادی اشیائے خورونوش کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے خورونوش کی 70 فیصد تک عدم دستیابی سے سیل کا مقررہ ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے انتظامیہ نے 80 سے زائد چھوٹے یوٹیلیٹی اسٹورز بند کر دئیے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…