منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں پر بجلی بم گرانے کی تیاریاں ،مختلف پاور کمپنیوں نےمل کر ایسا فیصلہ کرلیا جس کو پڑھ کر آپ کے بھی ہوش ا ڑجائینگے

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن)واپڈا کی پاور ڈسٹربیوزشن کمپنیز (ڈسکوز) نے بجلی کی قیمتیں بڑھانے کے لیے درخواستیں دائر کرنی شروع کردیں۔نیپرا ترمیمی ایکٹ (ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹربیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ) کے تحت بجلی کی کمپنیوں کو بجلی کی کی فراہمی اور ترسیل کے لیے علیحدہ درخواستیں دائر کرنے کا کہا گیا ہے۔

نیپرا ایکٹ کی دفعہ 23 ای کے تحت ‘پاور سپلائی’ کے لائسنس رکھنے والے بجلی کی فروخت کا کام انجام دیں گے اور سیکشن 20 کے تحت ‘ڈسٹربیوشن’ کا لائسنس کی ملکیت رکھنے والے آپریشن، مینیجمنٹ اور صارفین کو ترسیل کے حوالے سے سہولیات کی پر کنٹرول رکھیں گے۔ڈسکو کے پاس اس وقت سیکشن 23 (ای) کے تحت پاور لائسنس موجود ہیں۔فروخت کے علاوہ (تنصیب ، سرمایہ کاری ، آپریشن کی بحالی اور تقسیم کے نیٹ ورک کو کنٹرول کرنا) تمام سرگرمیاں ڈسٹربیوشن لائسنس کا ایک حصہ بنتے ہیں۔دوسری جانب فروخت سے متعلق تمام سرگرمیاں (میٹرنگ، بلنگ اور جمع کرنا وغیرہ) جو پہلے ڈسٹری بیوشن لائسنس کے ذریعہ کی جاتی ہیں اب سپلائی لائسنس کا حصہ بنتی ہیں۔تاہم ڈسکوز کو ڈسٹری بیوشن اور سپلائی کی سرگرمیوں کو علیحدہ علیحدہ کرتے ہوئے درخواستیں دائر کرنی پڑیں گی۔جہاں حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے ٹیرف ایڈجسمنٹ میں تاخیر نہ کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے وہیں زیادہ تر ڈسکوز اب علیحدہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی درخواستیں دائر کر رہے ہیں جس پر ریگولیٹر آئندہ ماہ کے دوسرے ہفتے سے سماعت کے کرے گا۔ٹیرف میں مختلف ڈسکوز کی جانب سے 10 سے 27 فیصد تک کا اضافہ طلب کیا گیا ہے ۔

جیسے سکھر الیکٹرک پاور کمپنی نے 10 فیصد اور کوئٹہ الیکٹرک پاور کمپنی نے 26 فیصد تک کا اضافہ طلب کررکھا ہے۔پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 24 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے کل نقصانات 37 فیصد ہیں۔ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے 54 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 29 ارب روپے اضافی ٹیرف صارفین سے طلب کرنے کی درخواست کی ہے۔حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی نے ان کے ریٹ میں 20 فیصد کمی کی درخواست دی ہے۔گجرانوالہ، فیصل آباد اور لاہور سمیت متعدد کمپنیوں کی جانب سے ٹیرف درخواستیں ابھی موصول ہونی باقی ہیں جن پر سماعت دیگر موصول شدہ درخواستوں پر سماعتوں کے بعد ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…