پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

حکومت کا بچت اسکیموں میں 40 کھرب روپے سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال کا فیصلہ، لاکھوں سرمایہ کاروں کی شامت آ گئی

datetime 19  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے ناجائز پیسے کو مالی نظام کا حصہ بننے سے روکنے اور منی لانڈرنگ سے تحفظ کیلئے 70 لاکھ سے زائد سرمایہ کاروں کی 40 کھرب 30 ارب روپے مالیت کی قومی بچت کی اسکیموں میں سرمایہ کاری کی جانچ پڑتال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی سفارشات کی تعمیل کے حصے کے طور پر کیا گیا،

ایشیا پیسیفک گروپ نے حال ہی میں شائع ہونے والی باہمی تشخیصی رپورٹ میں سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگس (سی ڈی این ایس) میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جس کی وجہ سے مجموعی درجہ بندی متاثر ہوئی تھی۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کا سراغ لگائے اور ان کی شناخت کرے۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو سفارشات عمل در آمد کی فہرست فراہم کرتے ہوئے فروری 2020 تک گرے لسٹ میں رہنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔فنانس ڈویژن نے نیشنل سیونگز اسکیم (اے ایم ایل-سی ایف ٹی) قواعد 2019 کے نفاذ کے بعد سے اے ایم ایل-سی ایف ٹی پر عمل در آمد کرنے والے بینکوں سے نیلامی کے ذریعے سی ڈی این ایس کی تمام ضروری تربیت اپنے ملازمین کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے مشاورت کے تحت دلچسپی رکھنے والے بینک سے کے وائی سی (اپنے صارف کو جانیں) کی مہم پر عمل کرنے اور سی ڈی این ایس کے نئے و موجودہ صارفین کی دیگر ضروریات بھی طلب کرلی گئی ہیں اس میں بائیو میٹرک تصدیق اور اقوام متحدہ کے ممنوع افراد کی فہرست میں آنے والے صارفین کی جانچ پڑتال شامل ہے،اس وقت سی ڈی این ایس 70 لاکھ سرمایہ کاروں کے 40 کھرب 38 ارب روپے سنبھال رہا ہے۔نیشنل سیونگز اسکیم معاشرے کے تمام افراد بالخصوص ضعیف العمر شہری، پیشن لینے والوں، بیواؤں، معذور افراد اور شہیدوں کے اہلخانہ کو خدشات سے پاک سرمایہ کاری کا موقع فراہم کررہا ہے

تاہم یہ مجموعی مالی خسارے کو دور کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو ایک مہنگائی سے پاک اور لاگت سے متعلق مؤثر قرض فراہم کرتا ہے جو بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرتا ہے، مقامی قرضوں میں سے 19 فیصد قومی بچت اسکیموں پر مشتمل ہے جبکہ یہ ذخائر شیڈول بینک کی کل جمع رقم کے 28 فیصد کے برابر ہیں اس کے علاوہ سی ڈی این ایس کے تقریباً 33 فیصد کے ذخائر فلاحی اسکیموں میں ہیں جو دیگر عام بچت اسکیموں سے زیادہ کے

منافع سے 2 فیصد اضافی شرح پر منافع فراہم کرتے ہیں۔فی الوقت سی ڈی این ایس کے سامنے ایک اہم چیلنج اس کے ہاتھ سے کیے گئے آپریشنز اور قومی بچت مراکز (این ایس سی) میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمی ہے جس کے لیے 2013 کے بعد سے اب تک آٹومیشن کے 2 منصوبے مکمل ہوچکے ہیں۔ان منصوبوں کے ذریعے 223 این ایس سی، جو مجموعی 376 مراکز میں سے 60 فیصد ہیں، کو کامیابی کے ساتھ خودکار بنایا جاچکا ہے جبکہ دیگر 153 کا آٹومیشن کا کام برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ برائے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) کے تعاون سے جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…