عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے باہر نکلنا ہوگا  ٹیکس ماہرین نے حکومت کو کیا  کرنے کا مشورہ دیدیا

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  17:49

لاہور( این این آئی)اپنی پالیسیاں بنانے کیلئے سب سے پہلے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے باہر نکلنا ہوگا جس کیلئے کسی طرح کے اقدامات نہیں اٹھائے جارہے،زمینی حقائق کی بجائے آئی ایم ایف کی ڈائریکشن کی وجہ سے معاشی پالیسیاں سود مند ثابت نہیں ہو رہیں، دوسری ترمیم آرڈیننس 2019سرمایہ کاروں کے لئے شکنجہ ہے جس سے فائدے کی بجائے نقصان ہوگا، پاکستان کے تمام شعبوں میںپوٹینشل ہے جس سے ہماری معیشت اپنے پائوں پر کھڑی ہو سکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہارپاکستان ٹیکس بار کے  سینئر نا ئب صدر قاری حبیب الرحمن زبیر ی،لاہور ٹیکس بار کے صدر


خرم شہباز بٹ، سینئر چا رٹرڈ اکاونٹنٹ محمد اویس ،چیئرمین کو ارڈی نیشن کمیٹی کیپ لا ہو ر ٹیکس با رسید حسن علی اور دیگر نے ’’ ٹیکس قوانین ، پالیسیاں اور معیشت ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس مو قع پر پا کستان ٹیکس با ر کے سابق صدر سر ور نعیم شاہ،صدر بز نس فر ینڈز آف اکنا مک اینڈ بز نس ریفا رمز کا شف انور،نا ئب صدر پاکستا ن ٹیکس با ر سہیل اخترسمیت دیگر بھی موجود تھے ۔مقررین نے کہا کہ  نتائج حاصل کرنے کے لئے زمینی حقائق کے مطابق لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسیاں تریب دینا ہوں گی لیکن بد قسمتی سے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل میں ہونے کیو جہ ہماری پالیسیاں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار اور کاروبار کرنے والے خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔اگر معیشت کو پائوں پر کھڑا کرنا ہے تو ہمیں خالصتاًااپنی پالیسیاں ترتیب دینا ہوں گی اور اس کیلئے سب سے پہلے غیر ملکی قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی لیکن بد قسمتی سے اس کے لئے عملی طو رپر کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ۔صرف قرضوں کے مارک اپ کی ادائیگی بڑا کارنامہ نہیں بلکہ پیٹ کا ٹ کر قرضے اتارنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ حکومت ٹیکس پا لیسیوں اور ٹیکس قوانین کے لئے اسٹیک ہو لڈرز سے مشاورت کرے ۔سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جبکہ مہما نوں میں شیلڈ اور سو ینئر ز بھی تقسیم کئے گئے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎