منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی سطح پر غذائی بحران کی صورتحال پیدا ،جانتے ہیں وجہ کیا بنی؟عالمی ماہرین نے انتباہ جاری کردیا

datetime 4  جنوری‬‮  2020 |

لاہور( این این آئی )عالمی ماہرین کے مطابقبہت زیادہ کاشتکاری ہونے سے مٹی کی ابتر ہونے والی صورتحال کی وجہ سے عالمی سطح پر غذائی بحران کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔برطانیہ کے مٹی کے بارے میں تحقیق کرنے والے ماہر جون کرو فورڈ نے ڈیٹا بتاتے کہا ہے کہ اگر ہم نے عالمی سطح پر مٹی کی صحت کو بحال نہ کیا تو آئندہ 10 سالوں میں ہمیں اس کے نتائج بہت زیادہ نظر آئیں گے

اور لاکھوں افراد کو غذا اور پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دنیا کی سب سے پرانی زرعی تحقیق کے ادارے روتھامسٹڈ کے سائنس ڈائریکٹر کی حالیہ تحقیق کے بعد کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں خانہ جنگی، بڑی تعداد میں لوگوں کی ہجرت، تشدد اور بڑے پیمانے پر سامنے آسکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے غذا اور زراعت کے ادارے کے مطابق زیادہ تر مسئلہ بردگی کے عمل کی وجہ سے ہوتا ہے جو مٹی کی سب سے زیادہ زرخیز بالائی سطح کو ختم کردیتا ہے، دنیا بھر میں ہر 5 سیکنڈز بعد فٹ بال کے میدان جتنے علاقے کی بردگی کا عمل کیا جاتا ہے۔جہاں بردگی کا عمل قدرتی طور پر ہوتا ہے وہیں انسانی سرگرمیاں جیسے زیادہ سے زیادہ زراعت، جنگلات کی کٹائی اور شہروں کے تیزی سے پھیلنا بھی اس کی وجہ بنتی ہے۔ایف اے او کے مطابق کرہ ارض کی ایک تہائی مٹی پہلے ہی ابتر حالت کا شکار ہے اور بڑھتی ہوئی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ 2050 تک 90 فیصد مزید بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ انسانی سرگرمیاں جیسے مائننگ اور پیداوار سمیت بردگی کے عمل سے ہونے والی آلودگی پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جہاں دنیا میں اس مسئلے کو اٹھایا جارہا ہے وہیں جون کرو فورڈ کا کہنا ہے دنیا کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے صرف 10 سے 15 سال باقی ہیں ۔مٹی عالمی ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ اس میں سب سے زیادہ کاربن کا ذخیرہ ہوتا ہے،اگر آپ مٹی کو ٹھیک کرلیں تو آپ کئی دیگر خدشات پر بھی قابو پالیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…