منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرپشن کی روک تھام: 15 مزاروں پر چندہ مشینیں لگانے کا فیصلہ جانتے ہیں ان مزارات سے سالانہ کتنے ارب روپے چندہ اکٹھا ہوتا ہے

datetime 13  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور(آن لائن)محکمہ اوقاف نے چندے کی خورد برد روکنے کیلئے لاہور سمیت پنجاب کے 15 بڑے مزاروں پر برقی مشینیں نصب کرنے کا فیصلہ کر لیا، چندہ اکٹھا کرنے کے لئے 8 کمپنیاں آزمائشی طور پر الیکٹرانکس مشینیں نصب کریں گی۔پنجاب میں اس وقت چھوٹے بڑے 543 مزارات ہیں جن سے محکمہ کو سالانہ تقریبا90 کروڑ سے زائد آمدن ہوتی ہے۔ داتا دربار پر زائرین سب سے زیادہ چندہ دیتے ہیں

جو 35 سے 38 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے 10 سے 15 فیصد چندہ خورد برد کر لیا جاتا ہے۔ جن مزاروں پر مشینیں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان میں داتا دربار، پیر مکی، حضرت میاں میر، بی بی پاک دامن، شاہ رکن عالم، شاہ شمس تبریز ملتان، بابا فرید الدین گنج شکر پاک پتن، امام الحق سیالکوٹ، نوشو پاک، شاہ دولہ گجرات اور دیگر شامل ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ایک مشین کی قیمت 16 سے 45 لاکھ کے درمیان ہے اور متعدد مزاروں پر اسے آزمائشی طور پر نصب کیا جائے گا تاکہ اس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے مشینوں کی تنصیب پر کچھ تکنیکی مشکلات کا سامنا بھی ہو گا کیونکہ اس کے لئے 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی کی فراہمی ضروری ہے اور اگر تھوڑی دیر بھی مشین بند رہے تو وہ پیسے کاؤنٹ نہیں کرے گی، غیر ملکی کرنسی اور پھٹے یا مڑے ہوئے نوٹ کی شناخت کے حوالے سے بھی مشین کی کارکردگی جانچی جائے گی۔اوقاف حکام کا کہنا ہے آزمائشی طورپر لگائی گئی مشینوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد ہی کمپنیوں کے ساتھ حتمی بات چیت ہو گی اور تمام قواعد وضوابط پورے کرنے کے بعد ٹھیکہ دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…