منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایف اے ٹی ایف کا منی لانڈرنگ کیلئے بے نامی کمپنیوں کے مشکوک کردار کا انکشاف

datetime 28  اکتوبر‬‮  2019 |

واشنگٹن(آن لائن)فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) نے کرپشن اور جرائم کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر ‘گمنام شیل کمپنیوں’ کے استعمال کا انکشاف کردیا۔ایف اے ٹی ایف کی حالیہ رپورٹ میں کمپنی، فاؤنڈیشن، ایسوسی ایشن کے اصل مالک یا دیگر کسی قانونی شخص سے متعلق خفیہ رازوں سے چھٹکارا پانے میں ممالک کی مدد کے لیے بہترین طریقہ کار کی نشاندہی کی گئی۔

تاکہ جرم اور دہشت گردی کے لیے ان تمام کے غلط استعمال سے بچا جاسکے۔خیال رہے کہ ‘شیل فرمز’ وہ کمپنیاں ہوتی ہیں جو صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہو اور ان کا کوئی دفتر یا ملازم موجود نہیں ہوتا۔رپورٹ میں کہا کہ ’ کمپنیز، ایسوی ایشنز یا منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے دیگر اداروں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بینیفشل اونر کی شفافیت لازمی ہے‘۔بینیفشل اونر ایک قانونی اصطلاح ہے جس کے مطابق ایک ایسا شخص جو ملکیت کے فوائد حاصل کرتا ہے جبکہ جائیداد یا کاروبار کسی اور نام پر موجود ہوتی ہے۔ایف اے ٹی ایف کی تجاویز کے مطابق ممالک اس بات کو یقینی بنائیں کہ حکام کمپنیوں، فاؤنڈیشنز اور دیگر قانونی افراد سے متعلق تازہ ترین اور درست معلومات حاصل کرسکیں۔2016 کے آغاز میں انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس نے نام نہاد ’ پاناما پیپرز‘ شائع کیے تھے، ان دستاویزات میں آف شور کمپنیوں کے لاکھوں بینیفشل اونرز ظاہر کیے گئے تھے۔پاناما پیپرز میں بہت سے افراد کو قانونی طور پر استعمال کیا گیا تھا اور ان دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ کچھ افراد کی بینیفشل اونرشپ کو غیرقانونی مقاصد کے لیے چھپایا گیا تھا۔ان پیپرز میں کئی بااثر پاکستانی شخصیات کی بھی بینیفشل اونرز کے طور پر نشاندہی کی گئی تھی، جنہوں نے آف شور کمپنیوں کے ساتھ اپنی وابستگی ظاہر نہ کرکے ایف اے ٹی ایف کی تجاویز کی خلاف ورزی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…