منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومتی سرپرستی سے دیہی خواتین کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکتاہے ، چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف نے کہا ہے کہ ہاتھ سے بنے ہوئے قالین پوری دنیا میں پاکستان کی منفرد پہچان ہیں ،بدلتے رجحانات کے تناظر میں کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں بھی انوویشن کی جارہی ہے ،اس انڈسٹری کا حکومت پر کوئی بوجھ نہیں اور اس کے ذریعے دیہی خواتین کو گھر کی دہلیز پر روزگار کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ان خیالا ت کااظہار

انہوں نے اپنے دفتر میں کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے امور کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ پرویز حنیف نے کہا کہ ہمیں ڈیزائن اور ڈائنگ کی طرف بھرپور توجہ مرکوز کرنا ہوگی اور دنیامیں بدلتے ہوئے رجحان کو مد نظررکھتے ہوئے جدت کو اپنانا ہوگا۔ ہاتھ سے بنے ہوئے قالین پوری دنیا میں ہماری منفرد پہچان ہیں لیکن بد قسمتی سے حکومتی سرپرستی نہ ملنے کی وجہ سے یہ انڈسٹری زوال کا شکار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے بنے ہوئے قالین کی تیاری کے مرحلے میں کئی شعبوں کا عمل دخل ہے جس کی وجہ سے ہزاروںخاندانوں کا روزگار وابستہ ہے ۔ اگر حکومت مکمل سرپرستی کرے تو دیہی علاقوں میں انقلاب لایا جا سکتا ہے ، خاص طو رپر خواتین کو دیہی خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب لوگ قالین بنانے کے شعبوں سے کنارہ کشی اختیار کرتے جارہے ہیں اس لئے حکومت اس طرف توجہ دے اوربنیادی مسائل کو حل کیا جائے تاکہ لوگ اس سے جڑے رہیں او رانہیں گھر کی دہلیز پر روزگار کے مواقع میسر آئیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…