جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کی سیاحت زوال کا شکار، سرکاری اعداد وشمار میں حقائق چھپانے کی کوشش

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

انقرہ (این این آئی)ترکی کے سرکاری اعدادو شمار نے انکشاف کیا ہے کہ ترکی میں عالمی اور عرب دنیا سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم ترکی کے حکومتی ذرائع ابلاغ اور اس کے وفادار عرب ذرائع ابلاغ تصویر کا ایک دوسرا رخ پیش کرتے ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق انقرہ میں قائم ترکش اعداد و شمار انسٹیٹوٹ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ تین ماہ کے دوران

مجموعی طور پر بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا ہے، مگر ان اعداد وشمار میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں میں ہر پانچواں سیاح خود ترکی کا شہری تھا۔ ان شہریوں کا شمار غیر ملکی سیاحوں اور یا عرب شہریوں میں نہیں ہوسکتا۔ سال 2019ء کی پہلی سہ ماہی میں 66 لاکھ غیر ملکی سیاح ترکی میں آئے۔ ان میں 17.8 میں ترک شہری تھے جو بیرون ملک مقیم ہیں۔ وہ اپنے اقارب سے ملنے کے لیے وطن لوٹے تھے۔ یعنی ترک حکومت نے سرکاری سطح پر اپنے ہی شہریوں کو غیر ملکی سیاحوں میں شامل کر کے زوال پذیر سیاحت کی صنعت کو بچانے کی کوشش کی ہے۔خیال رہے کہ پوری دنیا کسی ملک میں سمندر پار موجود شہریوں کو غیرملکی سیاحوں کا درجہ نہیں دیا جاتا بلکہ وہ اس ملک کے شہری ہی گردانے جاتے ہیں۔ بیرون ملک مقیم شہری اس ملک کے لیے زر مبادلہ کماتے ہیں اور ان کی کمائی کو سیاحت کے شعبے کی آمدن میں شامل نہیں کیا جاتا۔ترکی کے سرکاری اعداد و شمار کیمطابق تین ماہ کے دوران ترکی کو سیاحت کے شعبے میں 4 ارب 63 کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی جب کہ اس رقم میں 19 اعشاریہ 7 فی صد رقم ان ترک شہریوں کی طرف سے ادا کی گئی جو بیرون ملک سے واطن واپس لوٹے۔ اس اعتبار سے 2019ء کے چار مہینوں میں غیر ملکی سیاحت کا تناسب 4.6 رہا۔ بیرون ملک مقیم ترک شہریوں کو اس میں شامل کیا جائے تو سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ترکی کی سیاحت کے زوال پذیر ہونے کے اعداد وشمار ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دوسری طرف ترکی کی معیشت بھی زبوں? حالی کا شکار ہے۔ ترک لیرہ کی قیمت میں غیر معمولی کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں ترکی اشیائے صرف کی قیمتوں اورملک میں افراط زر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…