جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے نظام کو ون ونڈوپر منتقل ،ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے : صدر پاکستان انجمن تاجرا ن

datetime 24  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)آل پاکستان انجمن تاجرا ن کے صدر اشرف بھٹی نے کہا ہے کہ بزنس ماڈل بنائے بغیر غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو راغب نہیں کیا جا سکتا ،مختلف اداروں کی جانب سے اختیارات سے تجاوزاور رکاوٹوں کی وجہ سے کسی بھی سطح پر کاروبار کرنے میں

بے پناہ رکاوٹیں حائل ہیں ، مجموعی گروتھ کو اوپر لے کر جانے کیلئے کاروبار دوست ماحول ناگزیر ہے اور حکومت اس طرف اپنی توانائیاں صرف کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کیلئے آنے والے تاجروں کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے ۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ حکومت کومتعدد بار تجاویز دے چکے ہیں کہ تمام ایسوسی ایشنز سے رابطے بڑھائیں جائیں اور معیشت کی ترقی کیلئے تجاویز حاصل کی جائیں ۔ اس کیلئے فوکل پرسنز کی تعیناتی کی جائے تاکہ حکومت کو ہر طرح کے حالات سے آگاہ حاصل ہو لیکن ہماری اس تجویز کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ساری توجہ صنعتی اور برآمدی سیکٹر پر مرکوز ہے ۔ ہم ہرگز یہ نہیں کہتے کہ ان شعبوں کو نظر انداز کر دیں لیکن مقامی سطح پر چھوٹے کاروبار ی طبقے کے مسائل بھی سنے جائیں اور ان کا حل نکالا جائے ۔ مقامی تاجروں کیو جہ سے لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع میسر ہیں جبکہ خزانے میں سالانہ اربوں روپے کا ٹیکس بھی جمع ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے تو ہمیں پاکستان کو بزنس ماڈل بنانا ہوگا کیونکہ بزنس ماڈل دیکھے بغیر سرمایہ کار کبھی بھی اسرمایہ کاری نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے سے گریز کرے بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ٹیکسیشن نظام کو ون ونڈوپر منتقل کرنے اور ٹیکس کی شرح میں کمی کا اعلان کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…